سمندر کو آلودگی سے بچانے کیلیے محکمہ ماحولیات حرکت میں آگیا

صنعتوں سے فاسد مادوں اور کیمیکل زدہ آلودہ پانی کے اخراج پر محکمہ ماحولیات نے صنعتوں اور نالوں کا جائزہ لینا شروع کردیا


Staff Reporter October 20, 2013
صنعتیں فاسد مادہ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ میں ڈالیں، براہ راست کیمیکل زدہ پانی سمندر میں بہانے پر سخت کارروائی ہوگی،نعیم مغل فوٹو: فائل

محکمہ ماحولیات سندھ نے عید قرباں پر قربانی کی کھالوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال کے جائزے کے لیے انتظامات کرلیے ہیں محکمہ ماحولیات کے تحت پیر سے کھالوں (ٹینری) سے وابستہ صنعتوں کا معائنہ شروع ہوجائے گا۔

ایکسپریس سے گفتگو میں ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نعیم مغل نے بتایا کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا میں حکومت نے ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کیا ہے اس لیے تمام صنعتوں کو اپنا سیوریج کا کیمیکل زدہ گندا پانی ٹریٹمنٹ کیلیے یہاں ڈالنا چاہیے لیکن اگر کسی صنعت نے اس ضابطے کی خلاف ورزی کی تو سختی سے نمٹا جائے گا،انھوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ادارہ تحفظ ماحولیات نے کورنگی سیکٹر ڈی سیون کے نالے سے عید قرباں سے قبل ہی سیوریج کے پانی کے نمونے حاصل کرلیے ہیں اور اب تعطیلات کے بعد دوبارہ نمونے لیے جائیں گے۔



کیونکہ اسی نالے کے ذریعے مختلف صنعتیں کیمیکل سے آلودہ پانی کورنگی کریک کے مقام پر سمندر میں ڈالتے ہیں، لیکن اب محکمہ ماحولیات کی سخت جانچ اور کچھ کھالوں سے زرعی مقاصد کے لیے کھاد کی تیاری کی ٹیکنالوجی کے باعث اس رجحان میں کمی آرہی ہے اس کے باوجود کراچی کے سمندر کو آلودگی سے بچانے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے ، اجتماعی قربانی کے مقامات پر جانوروں کے بہنے والے خون کی صفائی کی صورتحال اور شہری اداروں کی جانب سے اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات کی افادیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ کراچی کے شہریوں کو صحت مند اور صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جاسکے۔