بھارت سے کسی بھی مقام پر سیریز فائدہ مند ہے ظہیر عباس

ایشیائی ممالک زیادہ باہمی مقابلوں کے ذریعے کھیل کا معیار بلند کرسکتے ہیں،ایشین بریڈ مین


Sports Reporter October 21, 2013
پاکستان میں بھی ٹوئنٹی 20 لیگ پلیئرز کیلیے سودمند ہوگی، ایڈہاک کمیٹی ممبر۔ فوٹو: فائل

پی سی بی کی عبوری کمیٹی کے رکن ظہیر عباس نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ایشین بریڈ مین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ سیریز کسی مقام پر ہو اس میں دونوں ملکوں کا فائدہ ہوگا، ایشیائی ممالک کے آپس میں زیادہ مقابلے کھیل کا معیار بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پی سی بی کے معاملات چلانے میں قانونی پیچیدگیوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو پیٹرن انچیف بنایا گیا، انھوں نے بورڈ کے آئین کے سیکشن 41میں ترمیم کرتے ہوئے 5 رکنی ایڈہاک کمیٹی بنادی تھی جس میں نجم سیٹھی، ظہیر عباس، شہر یار خان، ہارون رشید اور نوید اکرم چیمہ شامل ہیں۔ عبوری سیٹ اپ کا پہلا اجلاس ابھی تک منعقد نہیں ہوسکا۔ حال ہی میں انگلینڈ سے واپس آنے والے ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ میٹنگ کا انتظار کررہے ہیں، اس موقع پر ہی کمیٹی کے دائرہ اختیار کے بارے میں تمام تر معاملات واضح ہوں گے۔



ایشین بریڈ مین نے کہا کہ وزیر اعظم کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے پی سی بی کے تمام تر فیصلے میرٹ پر کریں گے، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے، غیر ملکی کرکٹرز کے ساتھ کھیل کر ہمارے پلیئرز کے تجربہ اور اعتماد میں اضافہ ہوگا، بھارت کے ساتھ سیریز کی بحالی کیلیے بھی اقدامات کیے جائیں گے، اگر پڑوسی ملک کی ٹیم پاکستان آکر کھیلنے میں دشواری محسوس کرتی ہے تو متبادل وینیوز تلاش کرنا ہوں گے۔ انھوں نے کہاکہ ایشیائی ملکوں پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے زیادہ سے زیادہ باہمی مقابلے ان کی کرکٹ کو عروج پر پہنچا سکتے ہیں، بھارت نے آئی پی ایل کے انعقاد سے اپنی کرکٹ خاص طور پر بیٹنگ کو بہت بہتربنالیا ہے، پاکستان میں بھی لیگ کا انعقاد ایسے ہی نتائج دے سکتا ہے۔

ظہیر عباس نے کہاکہ قومی ٹیم کی جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی خوش آئند ہے، امید ہے کہ کھلاڑی اگلے میچز میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ فتح اچھے کمبی نیشن، بولنگ اور بیٹنگ کی بدولت ممکن ہوئی، پاکستان کے بیٹسمین جب بھی اسکور کرتے ہیں تو کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، آئندہ مقابلوں میں بھی پروٹیز کو آسان نہیں لینا چاہیے، پیشہ ورانہ سوچ کے حامل مہمان کھلاڑی کم بیک کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اوروہ سیریز برابر کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔