لاڑکانہ کے رہائشی 6 سالہ بچے کو آوارہ کتوں نے بھنبھوڑ ڈالا

کراچی منتقلی کے بعد والدین شدید زخمی بچے کو لے کر اسپتالوں کے چکر لگاتے رہے


Staff Reporter November 16, 2019
حسنین کی چانڈکا میں سرجری نہیں ہو سکتی تھی اس لیے کراچی لایا گیا، وزیر صحت۔ فوٹو: فائل

لاہور: 14 نومبر کو لاڑکانہ کے ایک گاؤں کے رہائشی 6 سالہ حسنین ولد غلام حسین پر 6 آوارہ کتوں نے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا۔

حسنین ولد غلام حسین کو علاج کے لیے لاڑکانہ کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی ویکسی نیشن کے بعد اسپیشلسٹ نہ ہونے کے باعث 9 گھنٹے بعد کراچی بھیج دیا گیا، کراچی پہنچنے کے بعد متاثرہ بچے کے والدین سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے ٹھوکریں کھاتے رہے ۔

والدین کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال بھیجا جاتا رہا، ابتدائی طور پر بچے کو رات گئے انڈس اسپتال لے جایا گیا جہاں ابتدائی ویکسی نیشن اور اینٹی بائیوٹکس دی گئی جبکہ آئی سی یو میں بیڈ نہ ہونے کے باعث بچے کو دوسرے اسپتال بھیج دیا گیاجس کے بعد بچے کو سول اسپتال لے جایا گیا، سول اسپتال انتظامیہ نے بچے کو این آئی سی ایچ لے جانے کا مشورہ دیا جس کے بعد والدین بچے کو لے کر قومی ادارہ صحت برائے اطفال پہنچے جہاں اسے فوری طبی امداد دے کر انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کردیا گیا۔

این آئی سی ایچ کے سربراہ ڈاکٹر جمال رضا نے بتایا کہ 6 سالہ حسنین صبح سویرے اسپتال لایا گیا جسے کتوں نے بری طرح زخمی کردیا ہے، بچے کے چہرے پر بہت گہرے زخم آئے ہیں جسم کے مختلف حصوں پر بھی زخم ہیں، بچے کی حالت تشویشناک ہے اور آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔

جناح اسپتال اور این آئی سی ایچ کے 4 ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں جناح اسپتال کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر غلام شبیر، سرجن ڈاکٹر جہان عالم، اور این آئی سی ایچ سے ڈاکٹر انور آرائیں اور ڈاکٹر جمشید شامل ہیں، ٹیم بچے کا معائنہ کررہی ہے عام طور پر منہ کی سرجری حالت بہتر ہونے کے بعد کی جاتی ہے، بچے کو سفید خون بھی چڑھایا گیا ہے، لاڑکانہ میں ابتدائی ویکسین دی گئی تھی۔

بچے کو ایمیونیگلوبین، ٹیٹنس کی ویکسین بھی دی گئی ہے، بچے کی سرجری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے حسنین کے والد غلام حسین کا کہنا تھا کہ بچہ چاچا کے پاس جارہا تھا راستے میں 5 جنگلی کتوں نے بچے پر حملہ کردیا بچے نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن بے بس ہوگیا جب تک بھائیوں کو پتا چلا کتوں نے اس کا چہرہ نوچ لیا تھا، این آئی سی ایچ میں علاج چل رہا ہے۔

صوبائی وزیر صحت اور بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے این آئی سی ایچ پہنچ کر بچے کی عیادت کی انھوں نے کہا کہ حسنین کو آوارہ کتوں نے بری طرح زخمی کیا ہے، چانڈکا اسپتال میں سرجری نہیں ہوسکتی تھی جس کی وجہ سے کراچی لایا گیا، بچے کا این آئی سی ایچ میں بہترین علاج جاری ہے والدین علاج سے مطمئن ہیں، اگر بچے کو انفیکشن ہوگیا تو قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سندھ کے دیگر اضلاع میں اسپیشلسٹ نہیں جس کی وجہ سے بچے کو کراچی لایا گیا ہے، سرکاری اسپتالوں اور ڈائریکٹر جنرل صحت کے دفاتر میں اینٹی ریبیز ویکسین موجود ہیں، محکمہ صحت سندھ کے پاس 13 ہزار وائلز موجود ہیںآوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے محکمہ بلدیات اقدامات کررہا ہے۔