شاہراہ پاکستان پر فلائی اوور کی تعمیر میں تاخیر سے ٹریفک جام معمول بن گیا

بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ٹیکنیکل سروسز کی نااہلی کے باعث ہزاروں شہریوں کواہم شاہراہ پر روزانہ اذیت کا سامنا ہے


Staff Reporter October 25, 2013
فلائی اوورز کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کے ٹیکنیکل سروسز کی طرف سے متعدد وعدے اور دعوے کیے گئے۔ فوٹو : فائل

بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ٹیکنیکل سروسز ڈپارٹمنٹ کی نااہلی کے باعث شاہراہ پاکستان پر زیر تعمیر فلائی اوور کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے۔

جس کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ انجینئرنگ کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ اس صورتحال سے شہریوں کو کس حد تک مشکلات کا سامنا ہے، بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ٹیکنیکل سروسز کے تحت شاہراہ پاکستان پر عائشہ منزل ، واٹرپمپ ، ڈاکخانہ اور تین ہٹی پر فلائی اوورز کا تعمیراتی کام جاری ہے اس سلسلے میں صرف عائشہ منزل اور واٹرپمپ فلائی اوورز کے صرف ایک ایک ٹریک کو ٹریفک کے لیے کھولا گیا ہے ان فلائی اوورز کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کے ٹیکنیکل سروسز کی طرف سے متعدد وعدے اور دعوے کیے گئے۔

تاہم اس کے باوجود یہ مکمل نہیں ہوسکے ہیں ، فلائی اوورز کا تعمیراتی کام انتہائی سست روی سے جاری ہے جبکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان فلائی اوورز کی مد میں کم وبیش تمام فنڈ آچکا ہے تاہم اس کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کا ٹیکنیکل سروسز ڈپارٹمنٹ یہ فلائی اوور اعلان کردہ وقت پر تعمیر کرنے میں ناکام ہے مگر ہٹ دھرمی سے نئی نئی تاریخیں دینے میں مصروف ہے، فلائی اوورز کی تکمیل میں تاخیر سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا ہے ان مقامات پر ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا بڑا سبب بلدیہ عظمیٰ کے ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کے عہدے پر ایک جونیئر افسر کی تعیناتی ہے ان کی نااہلی کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں ، گزشتہ10سال میں کراچی میں فلائی اوورز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیراتی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔



تاہم یہ چاروں فلائی اوورز عشرے کے سست روی کے شکار منصوبے قرار دیدیے گئے ہیں، بلدیہ عظمیٰ ٹیکنیکل سروسز ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز نیاز سومرو صرف جونیئر افسر نہیں ہے بلکہ ان کی انتظامی گرفت بھی کمزور ہے، معاملہ فہمی اور تکنیکی صلاحیتوں کی کمی کے باعث یہ بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے، افسران کا کہنا ہے کہ اگر نیاز سومرو کو ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کے عہدے پر تعینات رکھنا ہے تو رکھا جائے ۔

تاہم کراچی کے شہریوں کے مفاد میں ان سے شہر کے اہم ترقیاتی منصوبے لے کر اہل اور انجینئرنگ سمجھنے والے افسران کی نگرانی میں مکمل کرائے جائیں، افسران کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو یہ منصوبے تاخیر کا شکار ہیں اور اب چار اہم ترقیاتی منصوبے جن میں شاہین کمپلیکس فلائی اوور ، مہران انڈر پاس اور ملیر میں دو پلوں کی ٹینڈرنگ ہوچکی ہے مگر نیاز سومرو کی نااہلی کے باعث یہ منصوبے کاغذی کارروائی سے زیادہ آگے نہ بڑھ سکے، منصوبوں کا صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں۔

بلدیہ عظمیٰ کے سینئر افسران نے صوبائی وزیر بلدیات کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ ان چار اہم ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کا تقرر کیا جائے ، منصوبوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت کرنے پر ڈائریکٹر جنرل نیاز سومرو کو پابند کیا جائے بصورت دیگر یہ منصوبے بھی نیاز سومرو کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔