سرکاری بنگلوں پر رینجرز کا قبضہ ہائیکورٹ کا حکومت سے جواب طلب

2006میں کے ڈی اے اور بورڈ آف ریونیو حکام کی ملی بھگت سے گھررینجرز کودیدیے گئے۔


Staff Reporter October 26, 2013
رینجرز حکام قبضہ دینے سے گریزکررہے ہیں، اپنی ہی جائیداد پر رہائش رکھنے سے محروم ہیں، بنگلے خالی کرائیں جائیں، کے ڈی اے افسران کی عدالت سے اپیل فوٹو : فائل

سندھ ہائیکورٹ نے کے ڈی اے افسران کے بنگلوںپر رینجرزکے قبضے کیخلاف درخواست پر وفاقی وصوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیے۔

جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے جمعہ کوکے ڈی اے کے 20 افسران کی درخواست کی سماعت کی،ذکی محمد ایڈووکیٹ کے توسط سے ڈائریکٹر جنرل رینجرز ، بورڈ آف ریونیو اور کے ڈی اے کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے نے ان کی جائیداد پرغیرقانونی طریقے سے قبضہ کیا ہواہے ،درخواست میں عدالت عالیہ کو بتایا گیا ہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کے قریب انھیں 202 مربع گز کے پلاٹس الاٹ کیے گئے تھے جن پر بنگلے تعمیر کیے گئے، درخواست گزاروں کے مطابق جب ان کے بنگلوں کی تعمیر مکمل ہوگئی۔

درخواست گزاروں نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے واجبات بھی اداکردیے لیکن کے ڈی اے اور بورڈ آف ریونیو حکام نے تعمیرات مکمل ہوجانے کے باوجود مذکورہ بنگلوں کا قبضہ درخواست گزاروں کو نہیں دیا ،بلکہ درخواست گزاروں کو جھوٹی تسلیاں دی جاتی رہیں کہ انھیں یہ بنگلے جلد ہی دیدیے جائیں گے لیکن اسی دوران 2006میں کے ڈی اے اور بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے یہ بنگلے رینجرز حکام کو رہائش کے لیے دیتے ہوئے ان کا قبضہ غیر قانونی طور پر انھیں دے دیا گیا ۔



درخواست گزاروں کو بتایا گیا کہ رینجرز عارضی طور پرکراچی میں امن وامان کی بحالی کے لیے آئے ہیں،ان کے بنگلے جلد خالی کردیے جائیں گے لیکن طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود یہ ممکن نہیں ہوسکا ، رینجرز حکام قبضہ دینے سے گریزکررہے ہیں۔

درخواست گزار اپنی ہی جائیداد پر رہائش رکھنے سے محروم ہیں ، اس سے انھیں شدید مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے، درخواست گزاروں نے موقف اختیارکیا ہے کہ رینجرز کوان بنگلوںمیں رہنے کا کوئی حق نہیں ، عدالت عالیہ سے استدعاکی گئی ہے کہ وہ رینجرز کے قبضے کو آئین پاکستان کے آرٹیکلز 23,24 کے خلاف اورغیرقانونی قرار دیتے ہوئے ڈی جی رینجرز کو ہدایت جاری کرے کہ وہ یہ بنگلے خالی کرائیں ، اس کے ساتھ ساتھ کے ڈی اے کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی اوربورڈ آف ریونیوکو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ یہ بنگلے درخواست گزاروں کے حوالے کردیں،فاضل بینچ نے ان کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مدعاعلیہان اور وفاقی وصوبائی حکومتوں کے لاء افسران کو بھی یکم نومبرکے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔