سندھ ہائیکورٹ رینجرز کے ہاتھوں گرفتار افراد کی تفصیلات طلب

حراستی مراکزمیں قیدکراچی کے 6شہریوںکو4 ہفتوں میں اہلخانہ سے ملانے کی ہدایت


Staff Reporter October 26, 2013
5 شہریوں کی غیرقانونی حراست کیخلاف درخواستوں پرڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ نوٹس جاری۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے فاٹاکے فوجی حراستی مراکزمیں قیدکراچی کے 6شہریوں محمد رمضان، اسامہ وحید،اکبرخان،مومن خان،رحیم سعید اور لئیق خان کو 4 ہفتوں میں ان کے اہلخانہ سے ملاقات کرانے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے لاپتا افراد کی مکمل فہرست بھی طلب کی ہے ،بینچ نے کراچی کے 5 شہریوں کوحبس بے جا میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں پرڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ملزمان کی جامع فہرست پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے جمعے کو 36سے زائد لاپتا افراد مقدمے کی سماعت کی، اس موقع پر سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے رکن فیصل سیال ایڈوکیٹ نے کراچی سے لاپتا ہونے والے124 افراد کی فہرست پیش کی،لاپتا افرادمحمد رمضان،اسامہ وحید، اکبر خان، مومن خان،رحیم سعید اور لئیق خان کے اہل خانہ نے بتایا کہ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ مذکورہ افرادکی اہل خانہ سے ملاقات کرائی جائے مگر تاحال اس کا اہتمام نہیں کیا گیا۔

اسلم بٹ نے بینچ کی ہدایات پرعملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے پیشکش کی کہ اگر اہل خانہ ا پنے اخراجات پر حراستی مراکز تک پہنچ جائیں تو ملاقات ایک ہفتے میں ہوسکتی ہے لیکن سرکاری اخراجات پرملاقات کے لیے کم ازکم 4ہفتے درکار ہونگے، عدالت نے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل)کو ہدایت کی کہ پشاور ہائیکورٹ اور محکمہ داخلہ کے پی کے،کے تعاون سے لاپتا افراد کی اپ ڈیٹڈ فہرست تیار کرکے پیش کریں،عدالت نے لاپتا افراد کو کی اہل خانہ سے ملاقات کرانے کیلیے قائم کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی(لیگل)سندھ علی شیر جکھرانی اور سیکریٹری داخلہ کے پی کے کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے، گزشتہ سماعت پر عدالت کو بتایا گیا تھاکہ خیبرپختونخواکے فوجی حراستی مراکز میں سندھ سے تعلق رکھنے والے6لاپتا افراد قید ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخواحکومت نے حراستی مراکز میں قید افراد کی اہل خانہ سے ملاقات کیلئے طریقہ کار طے کرلیا ہے۔



فاٹا اور پاٹا میں آئین کی دفعہ 245کے تحت حراستی مراکز قائم کئے گئے جہاں دہشت گردی میں ملوث ملزمان کورکھا گیا ہے ،ان ملزمان کو ''ان ایڈ آف سول پاور،ریگولیشنز2011''کے تحت حراست میں لیا گیا ہے جس کا اختیار آئین کی دفعہ247(5)کے تحت دیا گیا ہے عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے محمد رمضان،اسامہ وحید،اکبرخان،مومن خان،رحیم سعید اور لئیق خان کے پی کے میں فوجی حراستی مراکز میں قید ہیں۔مسمات امینہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ حساس اداروں نے اجمل وحید اور اسامہ وحید کو کراچی ایئرپورٹ سے 12 مارچ 2012 کوگرفتار کرلیا تھا۔گلفام بی بی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس بیٹا اشفاق احمد 13اگست2009کو اردوبازار گیا تھا واپس نہیں آیا،فضل رحیم نے کہا ہے کہ اس کا بیٹا سجاد رحیم 13مئی2011سے لاپتا ہے،مسمات سمعیہ نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے فیض علی کو 7جنوری2011کو گرفتار کیا گیا،سعید خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسکے بھائی فیاض خان اور اسکے دوست محمد عمران خان کو 17اپریل2011کو حراست میں لیا گیا۔

مسعود حسن نے کہا ہے کہ اسکے بھائی آصف اقبال کو 21جون2011کو حراست میں لیا گیا، مسمات عائشہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے شوہر محمدافضل کو 22اپریل2011کو جوڑیابازار سے حراست میں لیا گیا جبکہ اسکے دیور سعود میمن کو بھی حراست میں لے کر امریکا کے حوالے کردیا گیا تھا اور گزشتہ برس پانچ سال بعد رہائی کے بعدواپس آیا ہے تو اسکی حالت انتہائی خراب ہے۔محمدزمان نے کہا ہے کہ اس کے عزیزوں محمد سلیمان ، پیرزادہ، محمد طاہر، ایازخان،باسن خان،فرحان اللہ اور بسم اللہ خان کو بھی چند ماہ قبل حراست میں لیا گیا مگر رہا نہیں کیا گیا۔عدالت نے 5شہریوں کی غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواستوں پرڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کونوٹس جاری کردیے ہیں، احسان اللہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ رینجرز اہلکاروں نے اس کے بھائی کفایت اللہ کو 24ستمبرکوحراست میں لیا تھا ،وہ تاحال لاپتا ہے،یوسف منصوری نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا بیٹا محمد آصف محکمہ فائر بریگیڈ کاملازم ہے ،اسے 21اکتوبرکو رینجرز نے پی اینڈ ٹی کالونی سے گرفتار کیا ہے۔درخواست گزار یونس حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی عامر حسین کولانڈھی سے 19اکتوبرکو گرفتار کیاگیا،محمد اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بیٹے اویس کو کھارادر کے علاقہ سے رینجرز نے 14اکتوبرکوگرفتار کیا وہ تاحال لاپتا ہے۔