میررضا قتل کیس؛ والدین اور بہن کی قیادت میں شہریوں کا احتجاج اور دھرنا، انصاف کا مطالبہ

تفتیشی ٹیم پربھروسہ کر رہے ہیں، امید ہے کہ میر رضا کے معاملے میں انصاف ہوگا اور حقائق سامنے لائے جائیں گے، اہل خانہ


منور خان August 14, 2026
فوٹو: ایکسپریس نیوز

کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان تاج میر رضا سے اظہار یک جہتی کے لیے سوسائٹی قبرستان سے ان کے اہل خانہ کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس میں میر رضا کے والد، والدہ اور بہن سمیت خواتین، بچوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ریلی کے شرکا نے انصاف کی فراہمی کے حق میں نعرے لگائے۔

شارع فیصل میں ریلی کے دوران مقتول تاجر میر رضا کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے لخت جگر میر رضا کو ملک سے محبت تھی اور وہ ہر سال یوم آزادی انتہائی خوشی کے ساتھ مناتا تھا، اہل خانہ میر رضا کے قتل کے معاملے میں انصاف چاہتے ہیں اور اس حوالے سے تفتیشی عمل کو قریب سے بھی دیکھ رہے ہیں۔

مقتول نوجوان کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کے قتل کی تحقیقات میں غفلت و لاپروائی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے، پرانی تفتیشی ٹیم نے 12 دن تک اہل خانہ کے ساتھ کھیل کھیلا، ان کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی۔

میر حسین کا کہنا تھا کہ اہل خانہ نے پہلے والی تفتیشی ٹیم پر بھی اعتماد کیا تھا اور اب نئی تفتیشی ٹیم پر بھی بھروسہ کر رہے ہیں، امید ہے کہ میر رضا کے معاملے میں انصاف ہوگا اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

میر رضا کی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے اور نئی تحقیقاتی ٹیم کو کچھ وقت دینا ہوگا۔

بعدازاں ریلی کے شرکا نے شارع قائدین اللہ والی چورنگی دھرنا دے کر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے، اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے جس پر میر رضا کو انصاف دو سمیت دیگر مطالبات درج تھے۔

ریلی کے باعث شاہراہ قائدین سے شارع فیصل جانے والی سڑک پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور سوسائٹی قبرستان کی جانب آنے والے راستے پر بھی ٹریفک جام ہوگیا بعدازاں ریلی کے شرکا شاہراہ فیصل نرسری کی جانب روانہ ہوگئے جہاں مظاہرین نے شاہراہ فیصل کا ایک ٹریک بند کر کے احتجاج کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ میر رضا کے معاملے کی شفاف اور غیر جانب دار تفتیش کی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے تاکہ نوجوان تاجر میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے۔

شارع فیصل پر احتجاج کے باعث نرسری سے ایئرپورٹ کی جانب جانے والی سڑک پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی اظہار یک جہتی کے لیے میر رضا قتل کے خلاف شاہراہ فیصل پر احتجاج میں شریک ہوئے اور ان کا کہنا تھا کہ میں اور میرے تمام ساتھی میر رضا کی فیملی کے ساتھ ہیں، روز بروز احتجاج میں لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میر ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں، ہمارا پڑھا لکھا نوجوان ہم سے چھین لیا گیا ہے، جب تک زندہ تھا اس نے 4 آؤٹ لیٹ کھولی، وہ دوسروں کو روزگار دینا چاہتا تھا، وہ نوجوان چاہتا تو پاکستان چھوڑ کر چلا جاتا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ قاتل کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے، پورا شہر نوجوان تاجر میر رضا کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔