شہر میں ڈنگی اور ملیریا شدت اختیار کر گیا روزانہ جراثیم کش اسپرے کیا جائے ماہرین

3 دن تک بخار رہنے کی صورت میں فوری خون کا ٹیسٹ سی بی سی کراناچاہیے، ملیریا اور ڈنگی کی علامات یکساں ہوتی ہیں


Staff Reporter October 27, 2013
ڈنگی وائرس کا شکار افراد غیر ضروری اینٹی بائیٹک ادویہ کا استعمال نہ کریں،ماہرین۔ فوٹو: محمد نعمان/فائل

کراچی سمیت صوبے بھر میں ڈنگی اور ملیریاکا مرض دسمبر تک شدت اختیارکرتا ہے۔

ڈنگی مچھرایک سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر میں بھی منتقل ہوتا ہے ملک کے دیگر صوبوں میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مچھروں اورڈنگی وائرس کا سبب بننے والے مادہ مچھر ایڈیزایجپٹی کی افزائش نسل سرد موسم میں مانند پڑجاتی ہے ،ڈنگی وائرس کی علامات میں تیز بخار ، جسم میں شدید درد ، قے کا ہونا شامل ہوتا ہے، اس میں شدت آنے کے بعد متاثرہ مریض کے جسم کے پلیٹ لیٹ انتہائی کم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم سے خون جاری رہنے کا احتمال ہوتا ہے۔

ماہرین طب کے مطابق نارمل انسان میں خون جمانے والے اجزا پلیٹ لیٹ کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ ہوتی ہے، ڈنگی وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں میں پلیٹ لیٹ کی تعداد کم ہوکر 30ہزار ہوجاتی ہے، ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں مریض کی زندگی بچانے کیلیے فوری پلیٹ لیٹ کی منتقلی کرنا ضروری ہوتی ہے، ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی وائرس کا شکار افراد غیر ضروری اینٹی بائیٹک ادویہ کا استعمال نہ کریں کیونکہ ایسے مریضوں کے جسم میں پلیٹ لیٹ کی تعداد مزید کم ہوجاتی ہے ، زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں، مسلسل تین دن بخار رہنے کی صورت میں معمولی خون کا ٹیسٹ سی بی سی ٹیسٹ کراناچاہیے ، ٹیسٹ میں پلیٹ لیٹ کی تعداد معلوم کی جاتی ہے، تاہم مسلسل بخار رہنے پر صرف میں صرف پیراسیٹامول دی جائے۔

بچوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق بھی سی بی سی ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے اوران بچوں کو بھی غیر ضروری اینٹی بائیٹک ادویات سے بچانا ہوتا ہے، ڈنگی وائرس میں اینٹی بائیٹک کا کوئی کردار نہیں ہوتا ، دریں اثناء طبی ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی وائرس گزشتہ6سال سے تواترکے ساتھ رپورٹ ہورہا ہے، ماہرامراض خون ڈاکٹر طاہر ایس شمسی نے بتایا کہ مچھر ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر میں بھی منتقل ہوتا ہے لہذا گھروں،گلی،محلوں کی صفائی رکھیں اورگھروں کے اطراف پانی جمع نہ ہونے دیں کیونکہ جمع ہونے والے پانی میں مچھروں کی افزائش نسل تیزی سے ہوتی ہے ، جمع ہونے والے پانی میں معمولی سا مٹی کا تیل چھڑک دیاجائے تو مچھروں کی افزائش نسل رک جاتی ہے کیونکہ پانی کی سطح پر مٹی کا تیل ہوتا ہے اور آکسیجن پانی کے اندر نہیں پہنچ پاتی۔



جس کی وجہ سے مچھروں کی افزائش نسل رک جاتی ہے ،ماہرین طب نے کہا ہے کہ گھروں میں جرا ثیم کش اسپرے روزآنہ کی بنیاد پرکیاجائے اور گھروں میں جمع ہونے والے پانی کو فوری صاف کیا جائے، گھروں کی چھتوں پرکھلے ہوئے پانی کے ٹینکوں کو بھی ڈھانپ کر رکھا جائے برتنوں کوالٹا کرکے رکھا جائے تاکہ مادہ مچھرانڈے نہ دے سکے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنگی وائرس کے ساتھ ملیریا کا مرض بھی رپورٹ ہوتا ہے اور دونوں مرض کی علامات یکساں ہوتی ہیں ،ڈنگی بخارکی ابتدائی علامات میں ہڈی و جوڑوں میں درد ہوتاہے ، متلی اور الٹی آنا ہے۔

سردرد جلد پر دھبے جوڑوں اور پٹھوں میں درد سمیت دیگرعلامات شامل ہیں ، ڈنگی وائرس کی شدت ہونے پر پلیٹ لیٹ کم ہوجاتے ہیں ، خون جمانے والے اجزا اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے خون جاری ہونے لگتا ہے ، ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی بخارکا شبہ ہونے پر فوری اس کی تصدیق کے لیے ٹیسٹ سی بی سی کرانا ہوتا ہے ، ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی بخارکی تصدیق بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے ملیریا اور دوسری ملتی جلتی بیماریوں کے لیے بھی غیر ضروری علاج سے بچا جاسکتاہے،واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 5کروڑ سے زائد افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں 22ہزار افرادہلاک ہوجاتے ہیں ۔