سرکاری کالجوں سے فرنیچر اٹھانے کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا تدریس تعطل کا شکار

کالجوں کی انتظامیہ نے عارضی انتظام کے طور پر پرانا فرنیچر کلاسوں میں رکھ دیا جس کے باعث طلبا کالج نہیں آرہے


Staff Reporter October 28, 2013
محکمہ تعلیم غیرسرکاری ادارے سے کالجوں کو فرنیچر واپس کرانے میں ناکام ہوگیا، طلباکا خالی کمروں میں بیٹھنے سے انکار،فوٹو ایکسپریس/فائل

سابق وزیرتعلیم پیرمظہرالحق کے دورمیں ایک غیرسرکاری ادارے کی جانب سے کراچی کے سرکاری کالجوں اور اسکولوں سے فرنیچراٹھالے جانے کامعاملہ پیچیدہ صورت اختیار کرگیا اور کراچی کے 6 سرکاری کالجوں سے زبردستی فرنیچرلے جانے کے سبب ان کالجوں میں نئے تعلیمی سیشن کے موقع پر تدریسی سلسلہ تعطل کا شکار ہوگیا۔

فرنیچرنہ ہونے کے سبب داخلہ لینے والے طلبہ وطالبات نے تدریس کے لیے کالج آنا چھوڑدیااورکالجوں میں تعلیمی سلسلہ معطل ہے، ادھر صوبائی محکمہ تعلیم متعلقہ غیرسرکاری ادارے سے کالجوں کو فرنیچرواپس کرانے میں ناکام ہے، گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج ملیر، گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج سعود آباد،گورنمنٹ علامہ اقبال گرلز کالج شاہ فیصل، گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کورنگی نمبر6، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کورنگی نمبر6 اور گورنمنٹ گرلزڈگری کالج نمبر4میں طلبا کے بیٹھنے کیلیے کلاس رومز میں فرنیچرموجود نہیں، ان کالجوں کی انتظامیہ نے عارضی انتظام کے طورپر پرانا اورٹوٹاپھوٹافرنیچر کلاسوں میں رکھ دیاہے جوداخلہ حاصل کرنے والے طلباکے بیٹھنے کیلیے ناکافی ہے اور کلاسوں میں فرنیچرنہ ہونے سے طلبا نے داخلہ لینے کے باوجود کالج آناچھوڑدیاہے۔



گورنمنٹ ڈگری کالج ملیر کے ڈائریکٹراسپورٹس ظفریارخان کے مطابق اگر تمام طلبا بیک وقت کلاسز لینے آجائیں توان کے بیٹھنے کیلیے فرنیچرنہیں ہے، غیرسرکاری ادارے نے چندروزکے وعدے کے باوجود ایک سال میں بھی متبادل فرنیچرفراہم نہیں کیا اورکالج کاقیمتی فرنیچرپر قبضہ کرلیا، ایک سال قبل سابق وزیرتعلیم پیرمظہرالحق کے دورمیں صوبائی محکمہ تعلیم کی ایما پرغیرسرکاری ادارے نے سرکاری کالجوں اور اسکولوں سے زبردستی فرنیچر لے جانا شروع کیاتھا، بعض کالجوں میں پرنسپلزاورانتظامیہ نے مزاحمت کی جس پر ادارے نے اس یقین دہانی کے ساتھ متعلقہ سرکاری کالجوں اور اسکولوں سے قیمتی فرنیچراٹھایا کہ یہ فرنیچراب پرانا ہوچکاہے اس کے بدلے میں اتنی ہی تعدادمیں نیا فرنیچر فراہم کردیاجائے گا لیکن ایسانہیں ہوسکا صرف محدود تعدادمیں کچھ کالجوں کو فرنیچر دیا گیا۔

''ایکسپریس'' نے جب اس معاملے پر ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر ڈاکٹر ناصر انصار سے رابطہ کیاتوان کاکہناتھاکہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز نے اس معاملے پر کالج پرنسپلزکاایک اجلاس بلایا تھا جس میں پرنسپلز سے کہا گیا تھاکہ اگرمتعلقہ ادارہ فرنیچر واپس نہیں کرتاتوان کے خلاف ایف آئی آردرج کرائی جائے تاہم جب ریجنل ڈائریکٹرکالجز کراچی پروفیسرانعام احمد سے رابطہ کیاگیاتوان کاکہناتھاکہ اب تک فرنیچرواپس نہیں ملا لہٰذااس معاملے پر ڈائریکٹرجنرل کالجز سندھ سے متعلقہ ادارے کے خلاف کارروائی کی تحریری سفارش کی گئی ہے،اس سلسلے میں ابھی کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔