نفسیاتی مسائل مکمل طورپر قابل علاج ہیں ماہرین طب

نفسیاتی مرض کو پوشیدہ رکھنے سے الجھنیں بڑھ جاتی ہیں،ڈاکٹر ثوبیہ حقی


Staff Reporter October 29, 2013
بعض نفسیاتی مسائل یا امراض کو فوری علاج سے ختم کیا جا سکتا ہے،فوٹو؛ فائل

نفسیاتی مسائل لاعلاج تب ہوتے ہیں جب نفسیاتی مرض کو پوشیدہ رکھنے سے مزید نفسیاتی الجھنیں بڑھ جاتی ہیں ۔

نفسیاتی مسائل مکمل طورپر قابل علاج ہیں ، ان خیالات کا اظہار ضیا الدین یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہر نفسیات ڈاکٹر ثوبیہ حقی نے نفسیاتی صحت کے مسائل کے حوالے سے ہونے والے سیمینار میں کیا، انھوں نے کہا کہ بعض نفسیاتی مسائل یا امراض کو فوری علاج سے ختم کیا جا سکتا ہے،دنیا بھر میں ذہنی امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔



حالیہ اعدادو شمارکی بنیاد پر اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ 2020ء تک گلوبل برڈن ڈیزیزکی فہرست میں ذہنی صحت کے مسائل سرفہرست ہوں گے، گلوبل برڈن ڈیزیز فہرست کو شرح اموات، صحت کے مسائل اور بنیادی وسائل کی فراہمی کی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے، اس فہرست میں کارڈیو ویسکیولر حادثات، ٹیومرز اور دیگر بیماریاں بھی شامل ہیں، پیشہ ورانہ جگہوں پر ساتھ کام کرنے والے افراد بھی کسی بھی شخص میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کر سکتے ہیں، گھریلو ذمہ داریاں پوری نہ کرنا، بچے کا اسکول سے نکالا جانا اور کسی بھی کام کو درست انداز میں تکمیل تک نہ پہنچانا ذہنی صحت کے مسائل کے زمرے میں آتے ہیں ۔