محکمہ صحت تھیلیسمیا امتناع قانون پر عمل کرانے میں ناکام

سندھ میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے باوجود محکمہ صحت جوڑوں کا ٹیسٹ کرانے کا انتظام نہ کرسکا


Staff Reporter October 29, 2013
سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں شادی سے پہلے تھلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔فوٹو: فائل

سندھ شادی سے قبل تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیے جانے باوجود محکمہ صحت سے اس قانون کے مطابق شادی سے قبل ٹیسٹ کرانے کے عمل پر عمل نہیں کراسکا ہے۔

محکمہ صحت کو تھیلیسیمیا کے قانون پر عمل کرانے کیلیے بعض تکنیکی مسائل کا سامنا ہے لیکن عملدرآمد کیلیے ماہرین کی کمیٹی بنائی جارہی ہے اور تھیلیسیمیا قانون پر عمل کیلیے محکمہ قانون سے بھی رجوع کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق تھیلیسیمیا امتناع (پری وینشن) بل منظوری کے بعد بعض تکنیکی مسائل کا شکار ہے اور بل پر محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں نے چپ سادھ رکھی ہے، سندھ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں تھیلیسیمیا پری وینشن 2013 بل منظورکیا گیا جس میںشادی سے قبل دولہا اوردلہن کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو لازمی قراردیا گیا نکاح نامے میں تھیلیسیمیاکے ٹیسٹ کا اندارج بھی ہونا تھا ۔

اس بارے میں سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ تھیلیسیمیا امتناع بل کی منظوری کے بعد شادی سے قبل ٹیسٹ کرانا لازمی اور ٹیسٹ کی رپورٹ نکاح نامے سے منسلک کرنا ضروری ہے اس قانون کی خلاف ورزی پرایک لاکھ روپے جرمانہ ہے،سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں شادی سے قبل اس ٹیسٹ کو لازمی قراردیا گیا۔



لیکن محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کی سرد مہری سے قانون پر عمل کی بجائے اسے سرد خانے کی نذرکردیا گیا،بل کی منظوری کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کراچی سے سکھر تک کے سرکاری اسپتالوں میں تھیلیسیمیا سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی جسے نظر انداز کردیاگیا، تھیلیسیمیا پری وینشن بل پر متاثر والدین نے عملدرآمد کرانے کی ضرورت پر زوردیا ہے، ماہرین طب کے مطابق تھیلیسیمیا مہلک اور جان لیوا مرض ہے، یہ مرض والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔

اس مرض میں مبتلا بچوں میںخون بننے کا عمل رک جاتا ہے، پاکستان میں ہر سال5 ہزار بچے یہ مرض لیکر پیدا ہو رہے ہیں،پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی تعداد 80 ہزار ہے، تھیلیسیمیا ایک موروثی جنیاتی بیماری ہے جو ماں باپ سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے،تھیلیسیمیا میں جسم میں لال خون کے ذرات نہیں بنتے جس سے بچے میں خو ن کی شدیدکمی ہوجاتی ہے، مرض کی علامات بچے میں 4 ماہ کی عمر سے ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں، متاثرہ بچے کو ہر 15 دن بعد انتقال خون اور جسم سے زائد فولاد کے اخراج کے لیے ادویات کی تاحیات ضرورت رہتی ہے۔