مچھروں و مکھیوں کی بہتات کئی علاقوں میں ادویہ اسپرے نہیں کیا گیا

یومیہ درجنوں افراد ڈنگی بخاراور ملیریا میں مبتلاہورہے ہیں،نومبرمیں وائرس کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے،ماہرین طب


Staff Reporter October 29, 2013
اسپرے مہم کی ذمے داری بلدیہ عظمیٰ پر عائد ہوتی ہے جوامسال صرف اخباری بیانات کی حد تک محدود رہی ۔ فوٹو : آن لائن / فائل

کراچی میں مچھروں کی بہتات کی وجہ سے ڈنگی اور ملیریا کا مرض وبائی صورت اور ڈنگی و ملیریا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے۔

حکومت سندھ کا دعویٰ ہے کراچی میں جراثیم کش ادویہ کے اسپرے کے لیے 60 گاڑیاں مختص کردی گئی ہیں اوران گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں لاکھوں روپے کا بجٹ بھی جاری کردیاگیا ہے،کراچی کے بیشتر مصفاتی علاقوں اورکچی بستیوں میں اسپرے مہم شروع نہیں کی جا سکی،کراچی میں اسپرے مہم کی ذمے داری بلدیہ عظمیٰ پر عائد ہوتی ہے جوامسال صرف اخباری بیانات کی حد تک محدود رہی یہی وجہ ہے کہ کراچی میں امسال ڈنگی اور ملیریا سے اب تک4ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے، 18 افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوکرجاں بحق ہوچکے ہیں۔



لیکن حکومت سندھ نے انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجودٹھوس اقدامات نہیں کیے اورکراچی میں ڈنگی وائرس اپنی تباہ کاریاں پھیلا رہا ہے ، حکومت سندھ اس حوالے سے صرف اجلاس بلا کراپنی ذمے داریاں پوری کرلیتی ہے لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کراچی میں ڈنگی وائرس گزشتہ7سال سے رپورٹ ہورہا ہے۔

جس میں اب تک 50ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں اورسیکڑوں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں ، ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنگی وائرس سے متاثرہ افراد کیلیے سول اسپتال سمیت کسی بھی اسپتال میں علاج ومعالجے کی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے نجی اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے ،سرکاری اسپتالوں میں ان مریضوں کیلیے پلیٹ لیٹ کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ مریض نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے ان مریضوں کے اہلخانہ کو معاشی ناہمواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔