3 دوستوں کے قتل کا معمہ حل3ملزمان گرفتارکرلیے گئے

اویس، تحسین اور ساجد نے ایک ماہ قبل تینوں دوستوں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا تھا


Staff Reporter October 30, 2013
ملزمان اویس میمن عرف لنگڑا ولد محمد صدیق ، تحسین ولد محمد صدیق اور ساجد ولد غلام فرید کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا۔پولیس۔ فوٹو: فائل

شارع فیصل انویسٹی گیشن پولیس نے تہرے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا۔

گرفتار ملزمان نے ایک ماہ قبل 3 دوستوں کو اغوا کے بعد فائرنگ کر کے قتل کیا تھا اور ان کی لاشیں چھینی گئی گاڑی میں ڈال کر گلستان جوہر میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے، یہ بات ایس ایس پی ایسٹ پیر محمد شاہ نے ڈی آئی جی ایسٹ آفس میں پریس کانفرنس میں بتائی ، ایس ایس پی ایسٹ پیر محمد نے مزید بتایا کہ شارع فیصل انویسٹی گیشن پولیس نے گلستان جوہر میں واقع رابعہ سٹی میں کارروائی کرتے ہوئے3 ملزمان اویس میمن عرف لنگڑا ولد محمد صدیق ، تحسین ولد محمد صدیق اور ساجد ولد غلام فرید کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا۔

انھوں نے بتایا کہ جب گرفتار ملزمان سے تفتیش کی گئی تو گرفتار ملزم نے ایک ماہ قبل29 ستمبر کو گلستان جوہر بلاک 19میں سوزوکی آلٹو کار رجسٹریشن نمبر اے ایس جے 391سے ملنے والی3 دوستوں سہیل ولد شیر زمان ، پیمان ولد فضل رشید اور افضل ولد رئیس کو اغوا کے بعد فائرنگ کر کے قتل کرنے اور لاشیں بوری میں بند کرکے پھینکنے کا اعتراف کر لیا، انھوں نے بتایا کہ29 ستمبر کو گرفتار ملزم ساجد عرف سجاد اپنے3 دوستوں سہیل، پیمان اور افضل کے ہمراہ رابعہ سٹی گیا تھا۔



جہاں نصف درجن سے زائد مسلح ملزمان نے انھیں گھیرے میں لے لیا تھا اور بعدازاں ملزمان نے ساجد عرف سجاد کو رہا کردیا تھا اور دیگر 3 دوستوں کو اغوا کر کے انھیں فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا اور لاشوں کو بوری میں بند کر کے روفی فاؤنٹین کے قریب سے چھینی ہوئی کارمیں رکھ کر گلستان جوہر بلاک 19میں ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے تھےانھوں نے بتایا کہ جب پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کی اور رہا کیے جانے والے ساجد عرف سجاد کے موبائل فونز کا ڈیٹا نکال کر ایسے گرفتار کیا گیا تو کڑی سے کڑی ملتی گئی اور اس ہی کی نشاندہی پر دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا اور دوران تفتیش تہرے قتل کا معمہ حل ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ تہرے قتل کی واردات میں10سے زائد اور ملزمان بھی شامل ہیں جو اس وقت مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں انھوں نے بتایا کہ اب تک کی جانے والی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ تہرے قتل کی واردات رابعہ سٹی سے بھتہ وصول کرنے اور پیسے کا لین دین کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے، انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان اپنا تعلق مختلف سیاسی اور کالعدم تنظیموں سے بتاتے ہیں۔