سندھ میں ترقیاتی فنڈز شفاف انداز میں استعمال کیے جائیں قائم علی شاہ

ترقیاتی اسکیموں کیلیے50 فیصد فنڈز جاری کردیے،پروگرامز کیلیے 120 ارب روپے مختص ہیں،وزیراعلیٰ سندھ


Staff Reporter October 30, 2013
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس، مختلف محکموں کی کارکردگی وترقیاتی اسکیموں کا جائزہ۔ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے سال2013-14 کے لیے ترقیات کے مدمیں 215 ارب روپے میں سے 165ارب روپے صرف سندھ حکومت کی 2463 جاری اورنئی اسکیموں کیلیے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 120.77ارب روپے فوری اور اہم ترقیاتی اسکیموں پرخرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ 44.23 ارب روپے ریگولر ترقیاتی اسکیموں پرخرچ کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ خزانہ اوردیگرمحکموںکی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلیے وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے انھوں نے افسران کوسختی سے ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی کام میں مزیدتیزی لائیں اورترقیاتی فنڈز کو شفاف انداز میں اس طرح سے استعمال کریں۔اجلاس میں صوبائی مشیرخزانہ سیدمراد علی شاہ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی عارف احمد خان،سیکریٹری ترقیات ریحانہ غلام علی،ڈی جی ایم ای سی امتیازعلی شاہ، سینئر چیف واٹر فضل احمد نظامانی،محکمہ منصوبہ بندی کی مانیٹرنگ اوراوولیشن ونگ کے افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ دسمبر 2013 تک 293 فوری اوراہم ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں جن کے لیے محکمہ خزانہ کی جانب سے سو فیصدفنڈزریلیزکردیے گئے ہیں۔ انھوں نے جون 2014 تک 218 اسکیمیں مکمل کرنے کی بھی ہدایات دی، جس کے لیے50 فیصد فنڈزجاری کردیے گئے ہیں۔



انھوں نے محکمہ خزانہ کے افسران کو احکامات دیے کہ 852جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی سہ ماہی فنڈز ریلیز کیے جائیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 2463 جاری اور نئی ترقیاتی اسکیموں کے ساتھ بیرونی مالی مددکے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے 30ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس کے علاوہ مختلف اضلاع کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 20 ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں،متعلقہ محکموںکوان ترقیاتی اسکیموں کے لیے38.37 فیصد رقوم جاری کردی گئی ہے،متعلقہ افسران ترقیاتی کاموں کی رفتارتیزکریں اورفنڈز کے مکمل استعمال کو یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کے افسران کو فنڈز کے مکمل استعمال کو یقینی بنانے سرکاری اسپتالوں میں ادویہ اور دیگر مطلوبہ سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلیے خصوصی طور اور سختی سے احکامات دیے۔ انھوں نے متعلقہ افسران کوہدایات دی کہ وہ انھیں اپنی ماہانہ کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔