لیاری میں پولیس کواب تک مزاحمت کاسامنا ہےشاہدحیات

مہلت دی جائے،اے کٹیگری کے ملزمان علاقے میں ہیں،گرفتاریوں سے صورتحال بہترہوجائیگی،ایڈیشنل آئی جی


Staff Reporter November 02, 2013
شیراپٹھان قتل کیس میں تفتیشی افسرکی عدم پیشی پرسپریم کورٹ نے شاہد حیات کوطلب کرلیا ۔فوٹو: اے پی پی / فائل

ISLAMABAD: ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات نے اعتراف کیاہے کہ لیاری میں اب بھی مزاحمت کا سامناہے۔

سپریم کورٹ میں شیرا پٹھان قتل کیس میں عدالتی کارروائی شروع ہوئی توعدالت نے شیراپٹھان کیس میں پولیس سے رپورٹ طلب کی لیکن10بجے تک تفتیشی افسرکے عدالت میں پیش نہ ہونے پرچیف جسٹس نے برہمی کااظہار کیا وراے ڈی آئی جی کراچی شاہدحیات کوعدالت میں طلب کرلیا۔عدالت نے اے ڈی آئی جی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے افسران کونظم وضبط کاپابندکریں اوربتادیں کہ وہ پولیس فورس کے ملازم ہیں جوڈسپلن فورس ہے ،ہم اگر کوئی آرڈرکریں گے تومسائل ہوں گے۔عدالت نے استفسار کیا کہ شیراپٹھان قتل کیس میں اب تک کیاپیش رفت ہوئی ؟جس پرعدالت کو بتایاگیاکہ اس واقعے میں ملوث امین بلیدی کوگرفتارکرلیاگیاہے۔



جبکہ جبار لنگرا مارا جاچکا ہے، عزیربلوچ سمیت دیگرملزمان کی گرفتاری کیلیے لیاری میں ان کی رہائش گاہ پرچھاپے مارے جارہے ہیں متعددملزمان گرفتار ہوئے ہیں جبکہ8ملزمان مقابلوں میں مارے جاچکے ہیں وہاں کچھ مزاحمت کا سامناہے،انھیں وقت دیا جائے،لیاری میں اے کٹیگری کے20سے25ملزمان ہیں اگران میں سے دس پندرہ بھی پکڑے گئے تو حالات میں بہت فرق پڑے گا،بعدازاں ایس ایس پی جنیدبینچ کے روبروپیش ہوئے اور بتایاکہ شیراپٹھان،جمعہ پٹھان کابھائی منوراے ایس آئی ذاکر کے قتل میں ملوث نہیں تھااس کے خلاف شواہدنہیں ملے ،اس لیے یہ رپورٹ متعلقہ عدالت میں پیش کردی جائیگی جومناسب فیصلہ کریگی ۔