طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح

رئیس فاطمہ  ہفتہ 2 نومبر 2013

قارئین کو یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے رمضان کے مہینے میں اخبارات میں دو خبریں کئی دن تک تواتر سے چھپتی رہی تھیں۔ یہ خبریں طلاق سے متعلق تھیں۔ دونوں کیسوں میں عورتوں نے خلع لیا تھا کہ ان کی زندگی میں اب کوئی آگیاتھا۔ لہٰذا تین بچوں کی زندگی کی پرواہ کیے بغیر عدالت نے خلع دلوادیا۔ جب کہ بعض وکیل حضرات نے اس بات پر اعتراض بھی کیا تھا کہ ایسے تکلیف دہ کیسوں کا فیصلہ سناتے وقت بچوں کے جذبات کا بھی خیال رکھنا چاہیے تھا جو دادی، پھوپی اور باپ کے ساتھ رہنا چاہتے تھے اور یہ کہ یہ فیصلہ عید کے بعد بھی سنایا جاسکتاتھا … قریبی جاننے والوں میں بھی بالکل ایسا ہی ایک واقعہ پیش آچکا تھا۔ یہاں بھی چار بچوں کی ماں کے دل میں اپنے پڑوسی کے لیے عشق کا جذبہ بیدار ہوگیا… اور وہ ایک ایسے وکیل کے ہمراہ عدالت پہنچ گئیں جن کی وکالت کا یعنی روزی کا دارومدار گھر لڑوانے پر ہے۔

ہمارا موضوع آج طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح  ہے اور یہ بات کہ ایسا کیوں ہورہاہے کہ خواتین ان معاملات میں پیش پیش ہیں۔ کیا مرد کی بے وفائی، دھوکا دہی یا کچھ اور…؟ اس وقت میں صرف قارئین کے سامنے چند واقعات رکھتی ہوں۔ وجوہات کیا ہیں، خود سامنے آجائیںگی۔

تین سال پہلے ایک لڑکی کی شادی اس کی مرضی سے ہوئی۔ دونوں ایک ہی جگہ جاب کرتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش شکل، لڑکے کی مختصر فیملی ، صرف ماں باپ اور ایک بہن جو سعودی عرب میں رہتی ہے۔ ابتداء میں سب کچھ اچھا رہا۔ ایک بیٹی ہوئی جو دادی کی بہت چہیتی تھی۔ لیکن ایک سال کے بعد ہی لڑکی کے ماں باپ نے داماد پر زور ڈالا کہ وہ الگ گھر لے لے۔ آئے دن لڑکی بیٹی کو لے کر میکے آجاتی مختصر یہ کہ جھگڑوں سے بچنے کے لیے لڑکے نے الگ فلیٹ لے لیا۔ جو سسرال سے قریب تھا۔ اسی دوران لڑکی کی زندگی میں کوئی اور آگیا جس نے اسے ماڈلنگ کی ترغیب دی … تنازعہ کی وجہ یہی بات بنی اور لڑکی نے خلع لے لیا … خلع لینے کے بعد لڑکی کے باپ نے اس شخص سے رابطہ کیا جو مالدار بھی تھا اور ان کی بیٹی کا سچا عاشق بھی۔ لیکن ان کے ہاتھوں کے طوطے اس وقت اڑگئے جب ان پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ شخص تو پہلے ہی دو شادیاں کرچکاہے … ننھی سی دو ڈھائی سالہ بچی اپنے باپ داد اور دادی کو یاد کرکے روتی ہے … اس میں نقصان کس کا ہوا …؟ صرف اور صرف ننھی بچی کا… میاں بیوی دونوں کو نئے لائف پارٹنر مل جائیںگے … لیکن بچی نے ماں اور باپ دونوں کو کھو دیا … اب بتایئے اصل قصور وار کون …؟ لڑکی یا لڑکی کے والدین …؟ یا لڑکی کی ناقص تربیت…؟

دوسرا واقعہ سنیے … ایک ڈاکٹر صاحب کی شادی ہوئی تقریباً پانچ سال قبل … بیوی نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہواتھا۔ شادی کے بعد اس نے اس خواہش کا اظہار میاں اور سسرال والوں سے کیا کہ وہ سول سروسز کا امتحان دینا چاہتی ہے … سب نے اس کی خواہش کا خیر مقدم کیا اور ہر طرح کی سہولت فراہم کی، دو سال بعد جب کہ وہ ایک بچی کی ماں بن چکی تھی اس نے اعلیٰ سرکاری ملازمت کا امتحان دیا، پاس ہوگئی اور ایک جگہ پوسٹنگ بھی ہوگئی۔ اس عرصہ میں بچی دادی کے زیر نگرانی رہی، ملازمت کے دوران ایک اور شخص اس کی زندگی میں آگیا جو اس سے سینئر تھا۔ شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ بھی تھا۔ لیکن شکل و صورت، قد وقامت اور وجاہت میں خاتون کے شوہر سے نہ صرف بہت اچھا تھا بلکہ مالی طورپر بھی بہت مضبوط، آہستہ آہستہ تعلقات اس حد تک بڑھ گئے کہ خاتون نے اس شخص کے دام محبت میں گرفتار ہوکر فوری طلاق کا مطالبہ کردیا۔

اس لیے کہ پہلی شادی ماں باپ کی پسند کی تھی … اور پھر اس شریف النفس انسان نے بلا چوں وچراں یہ کہہ کر اس کی خواہش پوری کردی کہ… ’’کسی کو زبردستی باندھ کر نہیں رکھاجاسکتا‘‘ … خاتون نے بچی سے بھی دستبرداری حاصل کرلی، کیونکہ ان کا چاہنے والا انھیں بچی کے ساتھ قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا … بچی ویسے بھی ماں سے مانوس نہیں تھی، ڈبے کا دودھ پی کر دادی کی گود کی خوشیوں میں سونے والی بچی اپنی جنم دینے والی ماں کے لیے اجنبی تھی۔ بہر حال خاتون نے دوسری شادی اپنی پسند سے کرلی لیکن وہ فلیٹ میں اکیلی رہتی ہیں۔ ان کے دوسرے محبوب شوہر  اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ پہلے ہفتے میں دو دن ان کے ساتھ رہتے تھے لیکن اب کبھی کبھی آتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوںنے نئی بیگم پر یہ پابندی بھی لگادی کہ وہ نہیں چاہتے کہ خاتون ماں بنیں …!! … کیا یہ خسارے کا سودا نہیں تھا …؟

نتائج آپ خود اخذ کرسکتے ہیں اور یہ بھی کہ ہمارے ہاں عام طورپر ہر معاملے میں عورت کو مظلوم اور مرد کو ظالم سمجھا جا تاہے۔ جوکہ ایک بہت ہی غلط سوچ ہے۔ میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں ایسی ایسی ہولناک عورتیں دیکھی ہیں اور دیکھتی رہتی ہوں کہ قلم میں تاب نہیں کہ ان کی حرکتوں کی تصویر کشی کی جاسکے۔ کہیں وہ بیوی بن کر تمام عیش وآرام کی خواہاں ہوتی ہیں لیکن جواب میں شوہر کو تازہ گرم روٹی پکا کر دینے کی روادار نہیں۔ اس لیے کہ ان کی مائوں نے تربیت ہی ایسی کی ہے اپنی بیٹیوںکی … کہیں یہ عورت بہو بن کر کسی سے ان کا بیٹا چھین لیتی ہے اور مکافات عمل کو مذاق سمجھتی ہے۔ کہیں یہ ظالم ماں بن کر اپنے ہی بچوں کو لاوارث و لاچار چھوڑ کر کبھی طلاق لے لیتی ہے۔ تو کبھی آشنائوں کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہیں … کہ فی زمانہ جنس اور آزادی تمام جذبوں پر حاوی ہے۔ سڑک پر چلتے چلتے کوئی بھی نا بکار عورت شور مچارہی ہے کہ فلاں آدمی نے اسے چھیڑا ہے اور لوگ بغیر تحقیق کے اس بیچارے پر جوتا کاری کرنے لگتے ہیں لیکن اگر کوئی شریف مرد یہ کہے کہ فلاں عورت نے اسے بلیک میل کیا ہے یا کوئی اور غلط حرکت کی ہے تو کوئی ذی ہوش یقین نہیں کرے گا۔

مندرجہ بالا حقائق پر ذرا غور کیجیے گا تو سمجھ میں آجائے گا کہ بڑھتی ہوئی طلاق کے اصل ذمے دار کون ہیں …؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔