ریلوے کالونیوں میں میٹر ریڈرز کی ملی بھگت سے بجلی چوری جاری

کوارٹروں میں ائیر کنڈیشن لگے ہیں، وولٹیج کی اچانک کمی اور تیزی سے مکینوں کے برقی آلات کو نقصان


Staff Reporter November 03, 2013
غریب محنت کشوں نے ڈویژنل انجینئر کو بجلی چوری کیے جانے کے بارے میں متعدد درخواستیں لکھیں.

LONDON:

سٹی ریلوے کالونی سمیت شہر بھر کی ریلوے کالونیوں میں میٹر ریڈر کی مبینہ ملی بھگت سے سرعام بجلی چوری کی جا رہی ہے۔


کلرکوں اور پولیس اہلکاروں کے کوارٹروں میں ائیر کنڈیشن لگے ہوئے ہیں جس کے باعث وولٹیج کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے ، وولٹیج کی اچانک کمی اور تیزی کے باعث مکینوں کے فرج اور ٹی وی اور دیگر الیکٹرانک کا سامان جل جاتے ہیں ، ڈویژنل الیکٹریشن انجینئر نے پر اسرار خاموشی اختیار کی ہوئی ، ذرائع کے مطابق محکمہ ریلوے کی سٹی ریلوے کالونی میں بجلی کی سرعام چوری کی جا رہی ہے اور محکمہ ریلوے کراچی کے ڈویژنل الیکٹرک انجینئر اقبال شیخ نے پر اسرار خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔


ذرائع نے بتایا کہ سٹی ریلوے کالونی کے رہائشی ریلوے کے غریب محنت کشوں نے ڈویژنل انجینئر کو بجلی چوری کیے جانے کے بارے میں متعدد درخواستیں لکھیں تاہم انھوں نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے احکام جاری نہیں کیے، ذرائع نے بتایا کہ سٹی ریلوے کالونی مکان نمبر146/2کے رہائشی ریلوے پولیس کے اہلکار سکندر ، مکان نمبر149/2کے رہائشی پولیس اہلکار سہیل ، مکان نمبر147/5کے رہائشی پولیس اہلکار طاہر ،146/4کے رہائشی ٹی ایکس آر یونس ، مکان نمبر149/4کے رہائشی عبد الحق اور مکان نمبر145/11میں کرائے پر رہائش پذیر ڈسٹرکٹ پولیس کے اے ایس آئی سمیت متعدد سرکاری کوارٹروں میں ونڈو ائیر کنڈیشن اور اسپلٹ لگے ہوئے جس کے باعث سٹی ریلوے کالونی میں اچانک وولٹیج کم اور زیادہ ہو جاتا ہے اور غریب ملازمین کے فریج ، ٹی وی ، اور دیگر الیکٹرک آلات جل جاتے ہیں۔



مذکورہ تمام کوارٹروں سے محکمہ ریلوے میں الیکٹرک ڈپارٹمنٹ میں تعینات میٹر ریڈر خلیل فاروقی مبینہ طور پر1500روپے سے2000روپے تک رشوت وصول کرتا ہے ، ذرائع نے بتایا کہ خلیل فاروقی12سال سے زائد عرصہ سے سٹی ریلوے کالونی میں بطور میٹر ریڈر تعینات ہے جس کے پاس میٹر کو ریورس کرنے کی ایک موٹر موجود ہے اور جب وہ ہر ماہ میٹروں کی ریڈنگ کے لیے آتا ہے تو اس کے پاس موجود آلات کے ذریعے میٹر کھول کر اس کے نمبر ریورس کر دیتا ہے جس سے ریڈنگ کم ہو جاتی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ جن گھروں میں ائیر کنڈیشن موجود نہیں ہے ان گھروں سے مبینہ طور پر300روپے سے500 روپے ہر ماہ وصول کرتا ہے ، خلیل فاروقی نے چند سال قبل ریلوے افسران کی ملی بھگت سے محکمہ ریلوے کا میٹرنیٹی ہوم اپنے نام الاٹ کرا لیا تھا جس میں اب اس نے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ رہائش اختیار کی ہوئی ہے اور اپنے گھر میں بھی ائیر کنڈیشن لگوایا ہوا ہے، ذرائع نے بتایا کہ خلیل فاروقی اپنے افسران بالا کو ناراض نہیں ہونے دیتا جس کے باعث اس کا سٹی ریلوے کالونی سے تبادلہ بھی نہیں کیا جاتا۔