پولیس مقابلے میں ملزم ہلاک اہلخانہ کا نیشنل ہائی وے پر دھرنا

شاہ لطیف پولیس نے اطلاع پر چھاپہ مارا تو جرائم پیشہ افراد نے فائرنگ کردی، جوابی کارروائی میں امیر بخش مارا گیا


Staff Reporter November 04, 2013
ملزم کا تعلق گینگ وار کے سہیل ڈاڈا گروپ سے تھا،پولیس۔ فوٹو: فائل

شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ملزم ہلاک ہو گیا ، اس کا ساتھی فرار ہو گیا، پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے کے اہلخانہ نے نیشنل ہائی وے پرلاش رکھ کر احتجاج کیا۔

تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف ٹائون تھانے کی حدود سیکٹر22-B میں واقعے فٹبال گرائونڈ کے عقب میں جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے چھاپہ مارا تو وہاں موجود مسلح ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کردی جس پر پولیس کی جانب سے بھی ملزمان پر جوابی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک ملزم ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ، ہلاک ہونے والے ملزم کی لاش پولیس کارروائی کے لیے جناح اسپتال لائی گئی ، ایس ایچ او شاہ لطیف فاروق ستی کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت35 سالہ امیر بخش عرف فولاد ولد در محمد لاشاری کے نام سے کر لی گئی ، ہلاک ہونے والا ملزم شاہ لطیف ٹاؤن لاشاری گوٹھ کا رہائشی تھا انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزم کا تعلق لیاری گینگ وار کے سہیل ڈاڈا گروپ سے تھا، ہلاک ہونے والے ملزم کے خلاف ، سکھن اور شاہ لطیف سمیت دیگر تھانوں میں قتل ، اقدام قتل ، بھتہ خوری اور دیگر سنگین مقدمات درج ہیں ، انھوں نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے ایک ٹی ٹی پستول برآمد ہوئی ہے جو پولیس نے اپنے قبضے میں لے لی۔



ہلاک ہونے والے ملزم کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی، پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ملزم کے اہلخانہ اور لاشاری گوٹھ کے رہائشیوں نے رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب نیشنل ہائی وے پر لاش رکھ کر احتجاجی دھرنا دے دیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی ، احتجاج کے باعث نیشنل ہائی وے پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور قومی شاہراہ پر گاڑیوں لمبی قطاریں لگ گئیں جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا ، ٹریفک جام کے باعث متعدد گاڑیوں میں ایندھن ختم ہو گیا جس کے باعث لوگ اپنی مدد اپ کے تحت گاڑیوں کو دھکا لگا کر سڑک کنارے کرتے دکھائی دیے ، سڑک بلاک اور احتجاجی مظاہرے کی اطلاع ملنے پر ایس ایس پی ملیر ناصر آفتاب ، ایس پی ملیر ڈاکٹر نجیب ، ڈی ایس پی ملیر سٹی رائو محمد اقبال ، ایس ایچ او شاہ لطیف فاروق ستی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔

احتجاج کا سلسلہ 3 گھنٹے سے زائد دیر تک جاری رہا ، ہلاک ہونے والے ملزم کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ امیر بخش بے قصور تھا پولیس نے پکڑنے کے بعد فائرنگ کر کے قتل کیا ہے ، مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او شاہ لطیف فاروق ستی کو فوری طور پر معطل کرنے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اسی صورت میں وہ اپنا احتجاج ختم کریں گے، ٹریفک پولیس نے بتایا کہ احتجاجی دھرنے کے باعث اندرون ملک سے آنے والے ٹریفک کو پورٹ قاسم اور کراچی سے اندرون ملک جانے والے ٹریفک کو ایم ڈی اے سینٹر کی جانب موڑ دیا گیا ہے، آخری اطلاعات کے قومی شاہراہ پر احتجاج کا سلسلہ جاری تھا ۔