پی او اے تنازع دونوں پارٹیز کو دسمبر میں فیصلہ کن راؤنڈ کا انتظار

آئی او سی آئندہ ماہ تک اصل اسپورٹس فیڈریشن کا تعین کر کے معاملہ حل کردے گی،عارف حسن اورساہی گروپ کادعویٰ


Sports Reporter November 05, 2013
ہم ملکی آئین اور عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں، کوئی عہدیدار تیسری مدت کیلیے منتخب نہیں ہو سکتا۔اکرم ساہی۔ فوٹو: فائل

SIALKOT: پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے دونوں متوازی دھڑوں کو دسمبر میں فیصلہ کن راؤنڈ کا انتظار ہے، فریقین کا خیال ہے کہ لوزانے میں4 اکتوبر کو ہونے والے آئی او سی اجلاس میں ان کا موقف تسلیم کیا گیا، عالمی باڈی آئندہ ماہ تک اصل اسپورٹس فیڈریشن کا تعین کر کے معاملہ حل کر دیگی۔

حکومتی پی او اے کے صدر میجرجنرل (ر) محمد اکرم ساہی نے کہاکہ ہم ملکی آئین اور عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں، کوئی عہدیدار تیسری مدت کیلیے منتخب نہیں ہو سکتا، اسپورٹس پالیسی کے عملی نفاذ کیلیے ہونے والے الیکشن میں میرا اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب ہوا،کھیلوں کے مفاد میں جھگڑا ختم کرنے کیلیے دوبارہ انعقاد کرانے پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوگا۔آئی او سی کی تسلیم کردہ پی او اے کے سربراہ جنرل (ر) عارف حسن کا کہنا ہے کہ حالیہ مسائل کے سبب ملکی کھیلوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا، عالمی مقابلوں میں متوازی گروپ کی طرف سے بھجوائے جانے والے کھلاڑی آئی او سی کے تحت کسی ایونٹ میں شرکت نہیں کرسکتے۔

ہمارے پلیئرز کو حکومت ایئر پورٹس پر روک لیتی ہے، ملک میں ایسی متوازی پی او اے بنانے کا کیا فائدہ جب کھلاڑی انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کیلیے ہی نہ جاسکیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے 2 دھڑوں کے درمیان محاذآرائی سے ملکی کھیل بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں، تنازع کا حل تلاش کرنے کیلیے روزنامہ ''ایکسپریس'' نے دونوں گروپس کو الگ الگ فورم میں مدعو کیا،میجر جنرل(ر) محمد اکرم ساہی اور جنرل(ر) سید عارف حسن ساتھی عہدیداروں کے ہمراہ شریک ہوئے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اکرم ساہی نے کہا کہ عارف حسن گروپ کے ساتھ کوئی ذاتی عناد نہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کی تیسری مدت کیلیے انتخاب کی راہ میں رکاوٹ بنا، تنازع ختم کرنے کیلیے دوبارہ الیکشن کا انعقاد بھی کرا دیا جائے تو کوئی اعتراض نہ ہوگا، انھوں نے کہا کہ اسپورٹس پالیسی کے نفاذ کی بات2001سے چل رہی ہے، عملی اطلاق ہونے کے بعد اسے قابل قبول اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی چارٹر کیخلاف کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟اکرم ساہی نے کہا کہ 4اکتوبر کو لوزانے میں ہونے والے اجلاس میں پہلی بار ہمارا موقف سنا گیا، اس موقع پر کیے جانے والے فیصلے کے مطابق آئی اوسی یکم دسمبر تک حقیقی قومی اسپورٹس فیڈریشن کا تعین کرلے گی، یوں ہماری پی او اے کو ہی انٹرنیشنل سطح پر ملک کی نمائندگی کا حق دیا جائے گا۔

خواجہ فاروق سعید نے کہا کہ عارف حسن نے 2004ء میں منتخب ہوتے ہی کہا کہ اسپورٹس پالیسی کے نفاذ کیلیے آیا ہوں، بعد ازاں 2008ء میں خود بھی تیسری مدت کیلیے انتخاب میں رکاوٹ بننے والے فیصلے کی زد میں آئے تو مخالفت شروع کردی، 4فروری کے انتخابات عدالتی احکامات کی روشنی میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں ہوئے، ان میں جنرل(ر) اکرم ساہی کی سربراہی میں پی او اے تشکیل دی گئی جو باڈی ملکی قانون کے تحت درست ہے، اسے ہی عالمی تنظیمیں بھی تسلیم کریں گی، ہم انٹرنیشنل سطح پر موقف پیش کرچکے، امید ہے دسمبر میں اس حوالے سے تمام تنازعات ختم ہوجائیں گے۔ ظفر عباس لک نے کہا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ حکومتی ادارہ اوراس کا کام کھیلوں کے فروغ کیلیے ملکی فیڈریشنز کی معاونت کرنا ہے۔



انفرااسٹرکچر، کوچنگ کی سہولتوں اور فنڈز کی فراہمی اس کی ذمہ داری ہے، کوئی اگر کہے کہ اس سسٹم کو ہی نہیں مانتے تو اس کا کیا کرسکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بھی کسی ملک کو اپنے قوانین کے نفاذ سے نہیں روک سکتی، دیگر ممالک کے ساتھ تنازع ہو تو عالمی برادری ثالث کا کردار ادا کرسکتی ہے تاہم ہر ملک وہی فیصلے کرتا ہے جو اس کے قومی مفاد میں ہوں،کھیلوں کی انٹرنیشنل تنظیموں کو بھی ہمارے سسٹم اور آئین کا احترام کرنا ہوگا۔ محمود نوید نے کہا کہ پی اواے کے انتخابات شفاف انداز میں ہوئے، منتخب باڈی نے قومی سطح کے کھیلوں کا کامیاب انعقاد کرکے ثابت کردیا کہ نہ صرف ملکی فیڈریشنز ان کے ساتھ ہیں بلکہ وہ اسپورٹس کے امور چلانے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں۔آئی او سی کی تسلیم کردہ پی او اے کے صدر جنرل (ر) سید عارف حسن نے کہا کہ 4اکتوبر کو لوزانے میں آئی او سی کے رکن سید شاہد علی، وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکریٹری فریداللہ خان اور پی او اے کے صدر کی حیثیت سے میں نے شرکت کی، اکرم ساہی وہاں موجود ضرور تھے لیکن ان کی کسی آفیشل سے باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی۔

حکومتی نمائندے کے طور پر فریداللہ خان کا موقف ضرور سناگیا، انھوں نے بھی اجلاس میں وعدہ کیاکہ اسپورٹس پالیسی کو اولمپک چارٹر کے مطابق بنائیں گے تاکہ دنیا بھر کے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کھیلوں کی آزادانہ حیثیت پر کوئی قدغن لگنے کا امکان باقی نہ رہے، دسمبر تک ایسی ملکی اسپورٹس فیڈریشنز کا بھی تعین ہوجائے گا جنھیں متعلقہ انٹرنیشنل باڈیز تسلیم کرتی ہیں جس کے بعد ڈمی تنظیموں کا خود ہی صفایا ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ تنازع کے سبب ملکی کھیلوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا،عالمی مقابلوں میں جنرل(ر) محمد اکرم ساہی گروپ کی طرف سے بھجوائے جانے والے کھلاڑی آئی او سی کے تحت کسی ایونٹ میں شرکت نہیں کرسکتے، ہمارے بینر تلے جانے والے پلیئرز کو حکومت ایئر پورٹس پر روک لیتی ہے، ملک میں ایسی متوازی پی او اے بنانے کیا فائدہ جب کھلاڑی انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کیلیے ہی نہ جا سکیں۔

چوہدری یعقوب نے کہا کہ اکرم ساہی گروپ بھی اپنی حیثیت منوانے کیلیے آئی او سی کی نظر کرم کا منتظر ہے، جب آپ عالمی باڈی کے اختیار کو مانتے ہیں تو اس کے چارٹر کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟آئی او سی کوئی حکومتی یا سیاسی ادارہ نہیں، کھیلوں کے معاملات میں اس کے ساتھ جڑے ممالک کی اولمپک ایسوسی ایشنز میں بھی حکومتی مداخلت کبھی تسلیم کی گئی نہ اب ہوگی۔ شوکت جاوید نے کہا کہ اکرم ساہی آئین کی بات کرتے ہیں، بین الصوبائی رابطے کی وزارت کا کام کوآرڈینیشن ہے پالیسی سازی نہیں۔

نئے الیکشن کراکے منتخب کیے جانے والے لوگ اب عہدوں کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں،کھیلوں کو فروغ دینے کے حوالے سے اچھے ماضی کے حامل افراد کو دوسری اور تیسری مدت کی پالیسی کا شکار کرکے گھروں میں بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے، عدالت نے اکرم ساہی گروپ کو قومی کھیلوں کا نام تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی مگر ان مقابلوں پر 13 کروڑ روپے ضائع کردیے گئے۔

ادریس حیدر خواجہ نے کہا کہ اسپورٹس بورڈ اور متعلقہ اداروں کا کام انفرااسٹرکچر کی فراہمی ہے، عہدیدار ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہے ہیں جبکہ کھیلوں کے فروغ کیلیے کام کرنے والوں کا راستہ روکا جارہا ہے، اگر کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ ملکی اسپورٹس فیڈریشنز اس کے ساتھ ہیں تو متوازی دھڑے ختم کرکے جنرل کونسل میں ہمارے ساتھ بیٹھے، اگر اکثریت ہو تو عدم اعتماد کرکے کسی اور کا انتخاب کریں۔