اولمپک ٹارچ بار بار بجھنے لگی روسی منتظمین کے چہرے شرمندگی سے تاریک

آئندہ برس فروری میں سوچی میں شیڈول ونٹر اولمپکس کی مشعل تاریخ کے سب سے بڑے سفر پر گامزن ہے


Sports Desk November 06, 2013
پیوٹن کی جانب سے ریلے کا آغاز کیے جانے کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی بجھ گئی تھی اور اب تک 44 مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

باربار اولمپک ٹارچ کے بجھنے نے روسی منتظمین کے چہرے شرمندگی سے تاریک کردیے۔

آئندہ برس فروری میں سوچی میں شیڈول ونٹر اولمپکس کی مشعل تاریخ کے سب سے بڑے سفر پر گامزن ہے، یہ مجموعی طور پر 40 ہزار میل کا سفر طے کرتے ہوئے سوچی پہنچے گی، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ان سرمائی گیمز سے اپنے ملک کی دنیا میں ساکھ بہتر بنانا چاہتے ہیں مگر ٹارچ کے بار بار بجھنے سے میزبان ملک کی شرمندگی میں ہی اضافہ ہورہا ہے، یہ تو پیوٹن کی جانب سے ریلے کا آغاز کیے جانے کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی بجھ گئی تھی اور اب تک 44 مرتبہ ایسا ہو چکا ہے،یہ ٹارچ سربیا کی میزائل فیکٹری میں تیار کی گئی، پہلی بار جب بجھی تو ایک گارڈ نے اپنے سگریٹ لائٹر سے اسے جلایا تھا جس کی تصویر میڈیا میں آئی، یہ لائٹر ایک امریکی کمپنی کا بنایا ہوا تھا جس نے بعد میں فیس بک اور ٹویٹر پر تشہیر شروع کردی،انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے قانونی کارروائی کی دھمکی پر اس تصویر کو ہٹا دیا گیا۔ ایک صحافی یولیا لیتھنینا نے ریڈیو پروگرام میں دلچسپ سوال اٹھایاکہ جب ٹارچ کا یہ حال ہے تو پھر اس فیکٹری میں تیار کیے گئے میزائلوں پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔