بااثرمافیا کے گٹھ جوڑنے اویس مظفرکواستعفے پرمجبورکیا

ہائیڈرنٹس،اراضی پرقبضوں اورریتی بجری مافیاکیخلاف بے خوف کارروائی کی تھی


Staff Reporter November 06, 2013
اویس مظفر نے کراچی میں سائن بورڈز کے جنگل کیخلاف مہم کاڈیزائن بھی تیار کرلیا تھا ۔ فوٹو : فائل

KARACHI: سابق صدرزرداری کے معتمد خاص اورسندھ کے پاورکوریڈورکے سب سے مضبوط کردار اویس مظفرکیخلاف مختلف مافیاؤں نے اتنامضبوط محاذبنایا کہ بالآخرانھیں وزرات بلدیات سے مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔

سابق وزیر بلدیات اپنی4ماہ کی وزرات کے دوران ہائیڈرنٹس مافیا،آؤٹ آف ٹرن ترقیاں لینے والوں کے خلاف چومکھی لڑائی لڑرہے تھے جس کے باعث یہ مافیا محدود ہوکر رھ گئی تھی تاہم ان کے اچانک استعفے سے کالے دھن کے کھلاڑیوں اورمافیا ؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،یہی وجہ ہے کہ سیاست کے پس پردہ کرداروں سے لے کر کراچی میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث مافیاؤں نے اویس مظفرکیخلاف ایک مضبوط محاذ بناکر ان کو صرف 4 مہینے میں فارغ کرواکر غیرمعمولی طاقتور ہونے کا ثبوت دیا۔

سابق وزیر بلدیا ت نے ہائیڈرنٹس مافیاکے خلاف بھرپور آپریشن شروع کررکھا تھا جو کراچی کے شہریوں کا پانی بندکرکے کروڑوں روپے یومیہ لوٹ لیتی ہے، کراچی کا پانی کراچی کے شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کرتی ہے اوراپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کراچی کے معصوم شہری یہ پانی خریدنے پر مجبور ہیں ،ان کی چند روزہ کارروائی کے نتیجے میں پانی کا بحران رفتہ رفتہ ختم ہونا شروع ہوگیا تھاجن علاقوں کے مکین مہنگے داموں پانی خریدتے تھے ان شہریوں کے گھروں میں نلکوں سے پانی آناشروع ہوگیا تھا۔



اب یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جو ہائیڈرنٹس وزیر بلدیات نے بند کرائے تھے وہ ان کے استعفے کے بعد اب پھرکھلنا شروع ہوجائیں گے۔اویس مظفر نے کراچی میں سائن بورڈز کے جنگل کیخلاف مہم کاڈیزائن بھی تیار کرلیا تھا،وہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کیخلاف آئندہ چندروزمیں مہم شروع کرنے جارہے تھے۔انھوں نے کراچی میں اراضی پرقبضے رکوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔انھوں نے حقداروں کا حق سلب کرکے ترقیاں حاصل کرنے والے اور ان ترقیوں میں اپنا کردار ادا کرنے والے افسران کے خلاف اینٹی کرپشن سے باضابطہ تحقیقات بھی شروع کرادی تھیں وہ جب وزیرصحت تھے تو انھوں نے اسپتالوں میں دواؤں اور مشینری کی فراہمی میں ہونے والے اربوں روپے کے اسکینڈل کابھی سراغ لگاکر اس کے کردار کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔

وہ ریتی بجری مافیا کے خلاف بھی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔اویس مظفر نے بحثیت وزیر اپنی وزارت میں بیرونی کرداروں کومکمل صفر کردیا تھا،اس صورتحال کے باعث نادیدہ قوتوں سے لے کر ان قوتوں کی کٹھ پتھلی کاکردار ادا کرنے والے افسران اور کھلے عام لوٹ مارمیں مصروف قوتوں کو اپنامستقبل صرف تاریکی کی شکل میں نظر آرہا تھا جس کے باعث ان تمام قوتوں نے متحد ہو کر اویس مظفر کے لیے ایسے حالات پیدا کردیے کہ ان کے پاس مستعفیٰ ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔اویس مظفر بلدیات کی وزارت سے تو گئے مگرکئی پس پردہ کرداروں کے گھناؤنے چہروں کو بھی بے نقاب کرگئے ہیں۔