لیاری میں گھمسان کی جنگ ایم این اے ثانیہ ناز کے گھر پر حملہ

کالعدم پیپلز امن کمیٹی اور گینگ وار کے کارندے علاقوں میں قبضے کی کوششیں کررہے ہیں


Staff Reporter November 06, 2013
ثانیہ ناز کے گھر پر ہونے والے دستی بم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فوٹو : فائل

KARACHI: لیاری میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی اور گینگ وار کے کارندوں میں گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔

دونوں گروپ ایک دوسرے کے علاقوں میں قبضے کیلیے اندھا دھند فائرنگ کر رہے ہیں ڈی ایس پی کلاکوٹ نے لیاری میں تعینات متعدد پولیس افسران و اہلکار جو گینگ وار کے ملزمان کے لیے کام کرتے ہیں ان کی لسٹ تیار کر کے ڈی آئی جی ساؤتھ کو ارسال کر دی جبکہ ایک اہلکار کو محکمے سے برطرف کر دیا گیا ۔ لیاری کے علاقے چاکیواڑہ سیفی لین میں رہائش پذیر رکن سندھ اسمبلی ثانیہ ناز کے گھر پر موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، ثانیہ ناز کا کہنا ہے کہ وہ واقعے سے چند منٹ قبل ہی گھر سے نکل کر گئی تھیں جبکہ گھر پر ان کی والدہ اور بہن موجود تھیں۔ علاوہ ازیں شیخ الحدیث مولانا یوسف افشانی لیاری میں امن قائم کرانے کی کوششوں میں ناکام ہوگئے ، پولیس ذرائع نے بتایا کہ گینگ وار اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے کارندے آٹھ چوک شاہ بیگ لائن اور گل محمد لائن میں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہو کر شدید فائرنگ کر رہے ہیں اسی طرح عیدو لائن اور علی محمد محلہ ، کمہار واڑہ اور جمن شاہ پلاٹ میں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہیں۔



ذرائع نے بتایا کہ گینگ وار کا سربراہ نور محمد عرف بابا لاڈلا اور اس کے ساتھی اپنے مخالف گروپ کے سربراہ عذیر جان بلوچ کے گھر واقع ریکسر لائن میں داخل ہونے کے لیے اندھا دھند فائرنگ کر رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ عذیر جان بلوچ کے ساتھی عدنان اور ندیم نے غلام شاہ لائن میں بابا لاڈلا کے ساتھی راشد چیچی کے جوئے کے اڈے پر قبضہ کر لیا تھا جہاں منگل کو بابا لاڈلا اور اس کے ساتھیوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے اسے خالی کرالیا ، ذرائع نے بتایا کہ دونوں گروپ ایک دوسرے کے منشیات اور جوئے سٹے کے اڈوں پر بھی قبضے کر رہے ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ اولڈ سٹی ایریا کی جن مارکیٹوں سے پہلے عذیر بلوچ گروپ مبینہ طور پر بھتے وصول کر تا تھا اب وہاں کا بھتہ نور محمد عرف بابا لاڈلا کو پہنچ رہا ہے ، ذرائع نے بتایا کہ موتن داس بولٹن مارکیٹ سے بابا لاڈلا کو 3 لاکھ روپے ہر ماہ دیا جاتا ہے اسی طرح مختلف مارکیٹوں سے 2 سے 5 لاکھ روپے جمع کیا جاتا ہے ۔