ملک میں گیس کی پیداوار اور سندھ کے سی این جی اسٹیشنوں کی تفصیلات طلب

شہری انتظامیہ نے امن وامان اور محرم کو تجاوزات کے خلاف مہم ملتوی کرنے کا بہانہ بنالیا، عدالت عالیہ سے مزید۔۔۔


Staff Reporter November 07, 2013
کراچی یونیورسٹی ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 40 کمرشل پلاٹوں کی نیلامی کے خلاف حکم امتناع اور مدعاعلیہان کو نوٹس جاری کردیے گئے۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے اوگرا سے ملک بھر میں گیس کی پیداواراور سی این جی اسٹیشنوں کیلیے جاری کردہ لائسنس کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ لائسنس کے اجرا پرپابندی سے قبل اور اگر بعد میں جاری کیے گئے ہیں تو ان لائسنسوں کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں، جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سی این جی اسٹیشن کا لائسنس جاری نہ کرنے کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار ضیا جلبانی نے موقف اختیار کیاہے کہ رتو ڈیرو لاڑکانہ میں سی این جی اسٹیشن کے قیام کیلیے صوبائی حکومت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد درخواست گزرا نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے لائسنس کے حصول کیلیے رابطہ کیا تو یہ کہہ کر درخواست مسترد کردی گئی کہ وزیر اعظم کی جانب سے لائسنس کے اجرا پر پابندی عائد ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر وزیر اعظم سی این جی اسٹیشنوں کے لائسنس کے اجرا پر پابندی عائد نہیں کرسکتے،علاوہ ازیں شہری انتظامیہ نے امن وامان اور محرم الحرام کو تجاوزات کے خلاف مہم ملتوی کرنے کا بہانہ بنالیا اور سندھ ہائیکورٹ سے مزید 3 ہفتے کی مہلت طلب کرلی۔



جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سہراب گوٹھ اور دیگر علاقوں میں تجاوزات سے متعلق ازخود کیس کی سماعت کی، اس موقع پرایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میران محمد شاہ ،کے ایم سی حکام اور دیگر پیش ہوئے ، بینچ کو بتایا گیا کہ سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ اور اطراف سے 80 فیصد تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور باقی کام بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

اس ضمن میں رینجرز اور پولیس کے تعاون کی بھی ضرورت ہے تاہم امن وامان کی صورت حال کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعاون میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے تاہم مزید مہلت دی جائے تو عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد ہوجائے گا، عدالت نے 3 ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی، دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی ایمپلائز کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کے 40 کمرشیل پلاٹوں کی نیلامی کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے، سوسائٹی کے سابق صدر عبدالقیوم لطفی نے موقف اختیارکیا ہے کہ ظہیر الدین اور دیگر افراد نے سوسائٹی کے عہدیداروںکی حیثیت سے کمرشل پلاٹس کی نیلامی کے لیے اشتہارات شائع کرائے ہیں جو کہ سوسائٹی کی ملکیت ہیں، منیجنگ کمیٹی کو یہ اشتہار جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں کیونکہ سوسائٹی کی منیجنگ کمیٹی کی مدت ختم ہوچکی ہے، اس لیے جن افراد نے یہ اشتہار یہ شائع کرائے ہیں وہ اسکے مجاز نہیں،اشتہار کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔