حادثے میں ہلاک لڑکی اورلڑکے کے اہلخانہ کو دھمکیاں ملنے لگیں

10 دسمبر کو فیصل اور عائشہ کو کوچ نے کچل دیا تھا، پولیس نے ڈرائیور کوگرفتار نہیں کیا جس نے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی


Staff Reporter January 06, 2020
متوفیان منگیتر تھے، ٹرانسپورٹ مافیا کی جانب سے ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں، آئی جی انصاف دلائیں، اہلخانہ کی اپیل

پولیس ایک ماہ قبل کورنگی صنعتی ایریا میں تیز رفتار کوچ کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والی لڑکی اورلڑکے کے قاتل ڈرائیور کو گرفتار نہ کرسکی، ڈرائیور نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی۔

متوفیان کے اہل خانہ نے آئی جی سندھ سے انصاف کی اپیل کر دی، تفصیلات کے مطابق ایک ماہ قبل 10دسمبر کو کورنگی صنعتی ایریا تھانے کی حدود میں صبح ساڑھے 11بجے بابر کانٹا کے قریب 2مسافر کوچیں ریس لگا رہی تھیں کہ اس دوران ایک کوچ نے موٹر سائیکل پر سوار 24سالہ فیصل زمان ولد میر زمان اور 22سالہ عائشہ عباس دختر محمد عباس کو کچل دیا۔

جس سے دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے، متوفیان کے اہل خانہ نے بتایا کہ دونوں منگیتر تھے ، اہل خانہ نے بتایا کہ پہلے تو پولیس ٹال مٹول سے کام لیتی رہی پھر کافی تگ و دو کے بعد مقدمہ درج کرایا جس میں کوچ کے ڈرائیور افضل خان کو نامزد کیا گیا لیکن پولیس نے اسے گرفتار ہی نہیں کیا اور وہ ضمانت قبل از گرفتاری کرانے میں کامیاب ہوگیا۔

اہل خانہ نے مزید بتایا کہ ٹرانسپورٹ مافیا اتنی طاقتور ہے کہ وہ کھلے عام ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ مقدمہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ لوگ کیس واپس لے لیں، پولیس کی انھیں مکمل حمایت حاصل ہے ، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر کے 2چراغ گل ہوگئے لیکن پولیس کی ہٹ دھرمی اور بے حسی مستقل جاری ہے، اہل خانہ نے آئی جی سید کلیم امام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور کیس کی تفتیش کسی سینئر افسر سے کرائیں تاکہ قاتل اپنے انجام تک پہنچ سکے۔