جامعات کے اساتذہ کا حکومتی فیصلوں کیخلاف احتجاج کا اعلان

ایم اے پاس وائس چانسلرزکی تقرری اوروائس چانسلرزکے انتخاب کے لیے قائم ’’تلاش کمیٹی‘‘کومسترد کرتے ہیں ،فپواسا


Staff Reporter November 08, 2013
جامعات میں11نومبر کو یوم سیاہ منایا جائیگا،یقین دہانی کے باوجود اسمبلی اجلاس میں ترمیمی بل پیش نہ کیاجانا مذاق ہے،اساتذہ . فوٹو: فائل

سندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ''فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن'' (فپواسا) نے حکومت سندھ کی جانب سے ایم اے پاس وائس چانسلرزکی تقرری اوروائس چانسلرزکے انتخاب کیلیے قائم ''تلاش کمیٹی'' کو مستردکردیاہے۔

تلاش کمیٹی کوتحلیل کرکے ماہرین تعلیم پر مشتمل نئی تلاش کمیٹی کی تشکیل کامطالبہ کیاگیاہے جبکہ حکومت سندھ کے مذکورہ دونوں فیصلوں کے خلاف پیرکوصوبے کی تمام سرکاری جامعات میں احتجاج کافیصلہ کرتے ہوئے یوم سیاہ منانے کااعلان کردیاگیاہے اس بات کافیصلہ جمعرات کو فپواسا سندھ چیپٹرکے صدراسد عابدی کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں کیاگیااجلاس میں جامعہ کراچی سے فرحان صدیقی اور معیزخان،این ای ڈی یونیورسٹی سے عثمان علی،سندھ یونیورسٹی جامشوروسے عرفانہ ملاح سمیت صوبے کی دیگر جامعات سے اساتذہ نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ پیر11نومبرکوسندھ بھرکی سرکاری جامعات میں صوبائی حکومت کے فیصلوں کے خلاف یوم سیاہ منایاجائے گا، اساتذہ بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کراحتجاج کریں گے۔

جبکہ سندھ کے اساتذہ کااجلاس جامعہ کراچی میں ہوگاسندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ نمائندے جامعہ کراچی میں جمع ہوکرحکومتی اقدامات پر نظرثانی کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کااعلان کریں گے۔



فپواسا سندھ چیپٹرکے صدراسد عابدی نے جمعرات کو منعقدہ اجلاس کے بعد ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ سندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ کے نمائندوں کے ٹنڈوجام میں منعقدہ اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے وائس چانسلرزکے انتخاب کیلیے بنائی گئی تلاش کمیٹی کو یکسر مسترد کردیاگیاہے اوراس میں فوری طورپرماہرین تعلیم کو شامل کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے،اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے وائس چانسلرکے انتخاب کیلیے آنیوالے اشتہار پربھی کڑی تنقید کی گئی۔

جس میں پی ایچ ڈی نہ ہونے کی صورت میں ایم اے پاس امیدوارکووائس چانسلرکے لیے درخواست دینے کی اجازت دی گئی ہے اجلاس میں کہاگیاکہ ایچ ای سی کے قواعد کے تحت جب کسی استادکو اسسٹنٹ پروفیسر یا ایسوسی ایٹ پروفیسرزکے عہدے پرترقی نہیں دی جاسکتی توایسے میں یونیورسٹی کاوائس چانسلرکس طرح ایم اے پاس ہوسکتاہے سندھ اسمبلی میں جامعات کاترمیمی بل پیش نہ کیے جانے پربھی حیرت کا اظہار کیا گیا اور کہا گیاکہ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ترمیمی بل پیش نہ کیاجانااساتذہ کے ساتھ سنگین مذاق ہے فپواسانے یونیورسٹی رجسٹرار، ڈائریکٹرفنانس اورناظم امتحانات سمیت دیگرعہدوں پر تقرری کیلیے انتخاب کااختیارتلاش کمیٹی کودیے جانے پربھی سخت تنقید کی۔