کیا مدھم پڑتا ہوا یہ ستارہ پھٹنے والا ہے

یہ ستارہ ’ابط الجوزاء‘ پھٹ کر اتنا روشن ہوجائے گا کہ اس کی چمک آدھے چاند جتنی ہوجائے گی


ویب ڈیسک January 07, 2020
یہ ستارہ ’ابط الجوزاء‘ پھٹ کر اتنا روشن ہوجائے گا کہ اس کی چمک آدھے چاند جتنی ہوجائے گی (فوٹو: ناسا/ جے پی ایل)

آسمان میں آج کل ایک روشن اور مشہور ستارہ بہت تیزی سے مدھم پڑ رہا ہے۔ ستاروں کے جھرمٹ ''اورائن'' (شکاری) میں واقع یہ مدھم پڑتا ہوا ستارہ ''ابط الجوزاء'' (Betelgeuse) کہلاتا ہے جو زمین سے تقریباً 700 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اس سے چلنے والی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں 700 سال لگ جاتے ہیں۔


بتاتے چلیں کہ ابط الجوزاء، زمین کے شمالی نصف کرے سے دکھائی دینے والا گیارہواں روشن ترین ستارہ ہے جبکہ اورائن جھرمٹ میں یہ دوسرا روشن ترین ستارہ ہے۔ یہ ستارہ فرضی آسمانی شکاری کے کندھے کو ظاہر کرتا ہے۔

ابط الجوزاء کی چمک ماضی میں بھی کئی بار مدھم پڑچکی ہے لیکن اب کی بار یہ عمل بہت غیرمعمولی ہے۔ اس کی چمک دسمبر 2019ء میں اچانک کم پڑنا شروع ہوئی اور اب تک اس کی ظاہری روشنی میں 50 فیصد تک کمی آچکی ہے۔ یہ اتنا مدھم پڑ چکا ہے کہ اب یہ آسمان کے 20 روشن ترین ستاروں کی فہرست سے بھی خارج ہوگیا ہے۔

اگر فلکیات کی بات کریں تو ابط الجوزاء کو ''ریڈ سپر جائنٹ'' (بہت بڑا سرخ ستارہ) شمار کیا جاتا ہے جس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں تقریباً 11 گنا زیادہ ہے، یعنی ہمارے سورج جیسے 11 سورج مل کر ایک ابط الجوزاء کے برابر ہوں گے۔

قدرت کا اصول ہے کہ جو ستارہ جتنی زیادہ کمیت کا ہوگا، وہ اپنی زندگی کے مراحل اتنی ہی تیزی سے مکمل کرے گا اور بالآخر ایک بھیانک دھماکے سے پھٹ کر ختم ہوجائے گا۔

خوش قسمتی سے ہمارا سورج صرف اوسط کمیت والا ایک ستارہ ہے جو اس وقت اپنی زندگی کے عہدِ شباب میں ہے۔ سورج آج سے 5 ارب سال پہلے وجود میں آیا اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ اگلے 5 ارب سال تک اسی طرح روشن رہے گا، جس کے بعد یہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں داخل ہوجائے گا۔

لیکن ابط الجوزاء کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہ بھاری بھرکم اور دیوقامت ستارہ آج سے صرف ایک کروڑ سال پہلے وجود میں آیا تھا جو کائناتی پیمانے پر ایک بہت ہی مختصر سی مدّت میں اپنی عمر کا بیشتر حصہ پورا کرنے کے بعد، اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ ابط الجوزاء کی روشنی اچانک اس لیے مدھم پڑ رہی ہے کیونکہ یہ اپنا ابتدائی نیوکلیائی ایندھن پھونک چکا ہے اور اب اپنا وجود برقرار رکھنے کےلیے قدرے بھاری عناصر کو بطور نیوکلیائی ایندھن استعمال کرنا شروع ہوگیا ہے۔

اگرچہ دیوقامت ستاروں کے لیے یہ کوئی غیر متوقع بات نہیں لیکن ماہرین کا خیال تھا کہ ابط الجوزاء میں تیزی سے مدھم پڑنے کا مرحلہ آج سے کم از کم ایک لاکھ سال بعد آئے گا... جو غیر متوقع طور پر بہت پہلے وقوع پذیر ہوگیا۔

مطلب یہ کہ اس ستارے کا اختتام قریب ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ آئندہ چند سال ہی میں پھٹ پڑے اور ''ریڈ نووا'' (سرخ نوتارہ) بن جائے۔

اگر ابط الجوزاء کے بارے میں ہمارے اندازے درست ہیں تو یہ اگلے دس سال میں زبردست دھماکے سے پھٹ پڑے گا اور اس کی روشنی اتنی زیادہ ہوجائے گی کہ یہ آدھے چاند جتنا روشن نظر آئے گا۔ یہ اتنا روشن ہوگا کہ دن میں بھی دیکھا جاسکے گا؛ اور چند ماہ بعد آہستہ آہستہ مدھم پڑتا چلا جائے گا۔

لیکن بات صرف اس ایک ستارے کی نہیں۔ سائنسدانوں نے اب تک ایسے سات مزید ستاروں کی نشاندہی کر رکھی ہے جو آئندہ دس سال یا اس سے بھی کم عرصے میں پھٹ پڑنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ سب کے سب پھٹ کر نووا اور سپرنووا کہلانے والے ستاروں میں تبدیل ہوجائیں گے۔

اس طرح سے پھٹ کر تباہ ہوتے ہوئے ستاروں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرکے ماہرین فلکیات اپنے متعلقہ نظریات کو مزید بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے اور ضرورت پڑنے پر انہیں اور بھی خوب تر بناسکیں گے۔

البتہ اس ممکنہ دھماکے سے ہمیں خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ابط الجوزاء ہم سے اتنا دُور ہے کہ اگر یہ پھٹ پڑا، تب بھی ہمیں اس کی روشنی میں اضافہ ہی دکھائی دے گا، ورنہ زمینی ماحول یا انسانوں پر اس کے کسی بھی قسم کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔