1970سے 1999تک 100لوکل ٹرینیں چلائی جاتی تھیں

ہر لوکل ٹرین میں خواتین کے لیے 100سیٹوںوالا ڈبہ مخصوص ہوتا تھا۔


Staff Reporter November 09, 2013
2سے ڈھائی لاکھ خواتین روزانہ ان ٹرینوں کے ذریعے سفر کرتی تھیں فوٹو: فائل

کراچی میں 1968ء میں سرکلر ریلوے نظام کے تحت اندرونی علاقوں میں مسافر ٹرینوں کا آغاز کیا گیا اور 1970سے 1999تک مختلف روٹس پر 100لوکل ٹرینیں چلائی جاتی تھیں ۔

جس میں روزانہ لاکھوں مسافر سفر کرتے تھے ،ان روٹس میں سٹی اسٹیشن سے لانڈھی کورنگی ،لیاقت آباد ،ناظم آباد سمیت دیگر علاقے شامل تھے اور ہر لوکل ٹرین میں خواتین کے لیے ایک مخصوص ڈبہ ہوتا تھا ،جس میں 100سیٹیں لگی ہوتی تھیں اور روزانہ 2سے ڈھائی لاکھ خواتین ان ٹرینوں کے ذریعہ سفر کرتی تھیں ،اس حوالے سے ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی چیئرمین منظور رضی کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے سب سے محفوظ سواری کراچی سرکلر ریلوے تھی ۔



جو حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث بند ہوگئی ،انھوں نے کہا کہ اگر حکومت سرکلر ریلوے کا نظام بحال کردے تو ایک جانب کراچی میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور دوسری جانب خواتین کو سفر میں آسانی ہوجائے گی ۔