شعیب اخترعجلت میں دورۂ جنوبی افریقہ طے ہونے پر حیران

بھکاریوں کوانتخاب کا موقع نہیں دیا جاتا،خیرات میں جو بھی ملے لینا پڑتا ہے،سابق پیسر


Sports Reporter November 10, 2013
وقار یونس نے سازش کر کے مجھے اور محمد یوسف کو ٹیم سے باہر کیا، شعیب کا الزام۔ فوٹو: فائل

لاہور: سابق فاسٹ بولر شعیب اختر عجلت میں دورئہ جنوبی افریقہ طے ہونے پر حیران رہ گئے، ان کا کہنا ہے کہ بھکاریوں کو انتخاب کا موقع نہیں دیا جاتا، خیرات میں جو بھی ملے لینا پڑتا ہے۔

خلیجی اخبار کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ہم پروٹیز کو دورے میں ٹیسٹ میچ بھی شامل کرنے کا نہیں کہہ سکتے، بھارتی ٹیم کا دورہ مختصر ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کو سیریز کی ضرورت تھی جو پاکستان نے ان کی شرائط پر پوری کردی۔ سابق پیسر نے کہا کہ کوچز کی ذمہ داری کرکٹرز کا کھیل بہتر بنانے کیلیے کام کرنا ہے، سازشیں تیار کرنا نہیں، وقار یونس نے مجھے اور محمد یوسف کو ٹیم سے باہر کیا،کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی اسے کرکٹ کی سمجھ ہونا چاہیے تاکہ وہ نہ صرف کھلاڑیوں میں جذبہ ابھار سکے بلکہ ان کی صلاحیتوں سے بہتر انداز میں کام بھی لے سکے۔ شعیب اختر نے کہا کہ سخت تنقید کا مقصد پی سی بی میں کوئی عہدہ حاصل کرنا نہیں، جو بھی کام کیا رضاکارانہ طور پر کروں گا، چاہتا ہوں کہ میری باتوں سے قومی ٹیم بھیڑوں کی طرح میدان میں اترنے کے بجائے شیروں کی طرح لڑنا سیکھے۔



انھوں نے چوتھے ون ڈے میں شکست پر کہا کہ ہم کب تک اس طرح میچ ہارتے رہیں گے،صہیب مقصود نے نقشہ پلٹ دیا تھا،وہ ڈیل اسٹین کے 2 اوورز میں تھوڑا صبر کرلیتے تو فتح قومی ٹیم کے نام کرنے کے ساتھ سنچری بھی مکمل کرسکتے تھے، اہم موقع پر انھیں اپنا دماغ استعمال کرنا چاہیے تھا،اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو کوئی انہیں سمجھاتا،کپتان میں یہ اہلیت نہیں تھی تو کوچنگ اسٹاف اور مینجمنٹ کس لیے اسکواڈ کے ساتھ ہیں، انھوں نے کہا کہ ملکی سلیکٹرز ہیرے پرکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، ٹیلنٹ کہاں سے آئے گا، محمد عرفان 2010میں میرے ساتھ کھیلے، مگر انھیں کرکٹ کیلیے نااہل قرار دیتے ہوئے گھر بھجوادیا گیا، میں ایسے میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا کہ ایک اہم ہتھیار کو زنگ کیوں لگایا جارہا ہے، دنیا کے خطرناک بولرز میں سے ایک پیسر کو اب بھی ہر میچ کھلانے سے گریز کرتے ہوئے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔