بلدیہ عظمیٰ کی نا اہلی10 منصوبوں کیلیے مختص رقم ضائع ہونیکا خدشہ

اہم منصوبوں کی مجموعی مالیت 2 ارب سے زائد ہے، منصوبے رواں سال میں شروع کرنے ہیں


Staff Reporter November 11, 2013
رواں مالی سال میں سندھ حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے منصوبے ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ کے افسران کے مفادات پورے نہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہیں

بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ٹیکنیکل سروسز کی نااہلی، غفلت اور لاپروائی کے باعث رواں مالی سال میں سندھ حکومت کی طرف سے منظور کیے جانے والے 10 اہم منصوبوں کی مد میں رکھی جانے والی رقم ضایع ہونے کا امکان ہے۔

اگر ایسا ہوا تو کراچی کا براہ راست نقصان ہوگا جس کی ذمے داری صرف اورصرف بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ٹیکنیکل سروسز کے سربراہ پر ہوگی، باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت10 ایسے منصوبے ہیں جس کے تحت بلدیہ عظمی کو ٹینڈر جاری کرکے رواں سال میں شروع کرنے ہیں، ان منصوبوں کی مجموعی مالیت 2 ارب روپے سے زائد ہے، رواں مالیاتی سال میں اس مد میں60 کروڑ سے زائد رقم رکھی گئی ہے تاہم حیرت انگیز طور پر ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز نیاز سومرو اس سلسلے میں کسی طورپر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کو تیار نہیں ہیں، ذرائع نے ان اسکیموں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ان اسکیموں میں فیڈرل بی ایریا بلاک11میں بارش کے پانی کی نکاسی کا منصوبہ، لیاری میں نالے کی تعمیر، گجرنالے اور سروس روڈ کی تعمیر، این اے250کی حدود میں سڑک کی تعمیر،صفورا چورنگی سے سعدی ٹائون تک 3 کلومیٹر شاہراہ کی بہتری کا منصوبہ ، سعود آباد ملیر میں ملیر ہالٹ سے فاروقی مسجد تک سڑک کی ازسرنو سڑک کی تعمیر، بن قاسم ٹاؤن میں شفیق موڑ پر پل کی توسیع اور گولیمار سڑک پر پل کی تعمیر شامل ہے۔



ذرائع نے بتایا کہ ناظم آباد نمبر ایکگولیمارفلائی اوور کی لاگت کا تخمینہ 33کروڑ سے زائد ہے اور اس مد میں مکمل رقم سندھ حکومت نے رواں مالیاتی سال میں مختص کردی ہے، ذرائع نے بتایا کہ ماضی میں اس منصوبے کا ٹینڈر ہوچکا ہے تاہم طویل عرصے تک ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ کے کرپٹ افسران ٹھکیدار سے مذاکرات کرتے آرہے ہیں اور دھمکیاں دیتے رہے کہ اگر ہماری شرائط نہ مانی تو دوبارہ ٹینڈر کرادیں گے اور اب اس منصوبے کو دوبارہ ٹینڈرنگ میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود ٹینڈرنگ نہیں کرائی جارہی ہے جس کے باعث یہ منصوبے جس کی میں مکمل رقم رواں سال میں فراہم کی جائے گی افسران کی نااہلی اور مفادات پورے نہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہے۔

اس سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کے سینئر افسران نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس وقت بلدیہ عظمیٰ کا ٹیکنیکل سروسز ڈپارٹمنٹ کا سربراہ ایک جونیئر آفیسر ہونے کے باعث اپنی تاریخ کے بدترین اور افسوسناک دور سے گزر رہا ہے جس کا خمیازہ صرف ادارے کی مایوس کن کارکردگی کی صورت میںسامنے نہیں آرہابلکہ کراچی کے شہریوں کو بھی اس صورتحال کا خمیازہ برداشت کرنا پڑرہا ہے، ان افسران کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہم اپنی تمام کاغذی کارروائی مکمل کررہے ہیں اور اگر بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوگئے تو ہم نئے میئر کو اس تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے کہ بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے اس شہر پر کیسے کیسے ظلم کیے ہیں۔