غیرقانونی بچت بازاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

بازاروں کے منتظمین نے نوٹس کے باوجود بھی کے ایم سی کو کرایہ ادا نہیں کیا


Staff Reporter November 11, 2013
کارروائی کا فیصلہ میٹروپولیٹن کمشنر سمیع الدین صدیقی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ۔فوٹو: فائل ۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم غیرقانونی بچت بازاروں کیخلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ایسے تمام بچت بازاروں کو ختم کردیا جائے گا جن کا باقاعدہ اجازت نامہ نہیں جو کہ کے ایم سی کی زمین پر قائم ہونے کے باوجود کے ایم سی کو قواعد و ضوابط کے مطابق کرایہ ادا نہیں کر رہے ہیں۔

اس بات کا فیصلہ میٹروپولیٹن کمشنر سمیع الدین صدیقی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا اجلاس میں کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر ای اینڈ آئی پی بشیرخان سدوزئی کے علاوہ محکمہ جاتی سربراہان نے شرکت کی، اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں بچت بازاروں میں سے اکثریت نے اجازت حاصل نہیں کی اور غیرقانونی طور پر قائم ہیں، بازاروںکے منتظمین کو نوٹس دینے کے باوجود بھی کے ایم سی کو کرایہ ادا نہیں کیا جارہا ہے میٹروپولیٹن کمشنر نے اس موقع پر ہدایت کی کہ ایسے بچت بازاروں کیخلاف قانونی کارروائی کیلیے ضلعی انتظامیہ سے تعاون حاصل کیا جائے۔



اجلاس میں کراچی کے مختلف علاقوں میں قائم بچت بازاروں کو بہتر بنانے اور غیرقانونی بچت بازاروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بچت بازاروں کو ازسرنو نیلام کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ شہریوں کو بہتر سہولتیں مہیا کی جاسکیں ، میٹروپولیٹن کمشنر نے سینئر ڈائریکٹر اینڈ آئی پی کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اندر بچت بازاروں کے بائی لاز تیار کیے جائیں غیرقانونی بچت بازاروں کی فہرست مرتب کی جائے جن بچت بازاروں نے قانونی اجازت حاصل نہیں کی وہ قانونی طریقہ کار کے مطابق اجازت حاصل کریں، انھوں نے کہا کہ کے ایم سی اپنی زمین پر ایسے بچت بازاروں کو بند کردے گی جوغیرمعیاری اور غیرقانونی ہوں گے۔