31 سالہ بیلی ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھنے کے لیے تیار

کارکردگی کے پیش نظر خود کو زیادہ بہتر محسوس کررہا ہوں، آسٹریلوی بیٹسمین


Sports Desk November 18, 2013
کارکردگی کے پیش نظر خود کو زیادہ بہتر محسوس کررہا ہوں، آسٹریلوی بیٹسمین۔ فوٹو: آئی سی سی/فائل

آسٹریلین بیٹسمین جارج بیلی کا کہنا ہے کہ کارکردگی میں موجودہ بہتری بالکل مختلف ہے۔

گذشتہ چند گیمز سے وہ اپنے آپ کو زیادہ بہتر محسوس کررہے ہیں، 31 برس کی عمر میں بیلی آسٹریلیا کی جانب سے ٹیسٹ ڈیببو کیلیے تیار ہیں، وہ گذشتہ 34 برسوںمیں آسٹریلیا کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنیوالا سب سے عمر رسیدہ بیٹسمین ہوں گے ۔ تفصیلات کے مطابق گابا پر ایک ٹیسٹ کے دوران 30 برس سے زائد عمر کا نام نہاد اچھا شخص اپنا ڈیبیو کررہا تھا، ایک غیریقینی سی کیفیت تھی کہ کیا وہ ٹیسٹ بیٹسمین کی حیثیت سے کامیاب ہوسکے گا، یہ واقعہ گذشتہ برس جنوبی افریقہ کیخلاف پہلا ٹیسٹ تھا اور اب اس سمر کی ایشز سیریز ہونیوالی ہے۔ لیکن اس وقت کے ڈیبیو کرنیوالے جارج بیلی کو امید ہے کہ ان کا ٹیسٹ کیریئر گذشتہ برس ان کے ساتھی روب کیونے سے طویل ہوگا۔

اس سلسلے میں انھوں نے گذشتہ چند دنوں میں کیونے سے مشورے بھی کیے ہیں ۔ کیونے ڈیل اسٹین اینڈ کمپنی کیخلاف تیسری پوزیشن پر بیٹنگ کرنا چاہتے تھے لیکن برسبین یا ایڈیلیڈ میں اپنی تینوں اننگز میں ایک مرتبہ بھی ڈبل فیگرز تک نہیں پہنچ سکے تھے، اس کے بعد ان کی جگہ شین واٹسن کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ رواں برس بیلی کیلیے صورتحال ذرا مختلف ہے، اس مرتبہ وہ نچلے درجے پر قرین قیاس ہے کہ نمبر 6 پر بیٹنگ کریں گے ، اس مرتبہ وہ ایک انجرڈ پلیئر کی حیثیت میں نہ ہونے اور زیادہ رنز بنانے پر ٹیم میں مستحکم پوزیشن حاصل کرسکتے ہیں لیکن کیونے کی طرح بیلی بھی جانتے ہیں کہ چند ناکامیاں سلیکٹرز کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے ساتھ ہی ٹیم میں ان کی شمولیت مختصر بھی ہوسکتی ہے۔

اتوار کے روز پہلے ٹیسٹ سے قبل برسبین پہنچنے والے بیلی کا کہنا ہے کہ ہوبرٹ میں تسمانیہ اور وکٹوریہ کے درمیان شیفلڈ شیلڈ میچ کے دوران انھوں نے کیونے اور زیویئر ڈوہرتی اور میتھیو ویڈ جیسے ٹیسٹ پلیئرز سے اس پر بات چیت کی ہے۔ کیونے وکٹوریہ کی جیت پر اپنے 82 اور 86 رنز کی وجہ سے مین آف دی میچ قرار پائے تھے جبکہ بیلی نے 37 اور 16 کیے تھے ، اس سے قبل گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایلن بورڈر فیلڈ پر انھوں نے کوئنز لینڈ کیخلاف 34 اور 41 رنز بنائے تھے۔

یہ بھارت میں ایک روزہ سیریز کے دوران بنائے گئے رنز کی طرح کا بڑے اسکورز نہیں ہیں جس نے انھیں سلیکٹرز کی توجہ کا مرکز بنایا تھا ، لیکن وہ پراعتماد ہیں کہ سرخ بال ہر حالت میں ان کیلیے بہتر ثابت ہوگی۔ ورلڈ سیریز کرکٹ تنازع کے دوران جیس موس کو ڈھیلی ڈھالی سبز کیپ دینے کے بعد سے 31 برس کی عمر میں بیلی آسٹریلیا کی 34 سالہ کرکٹ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنیوالا سب سے عمر رسیدہ بیٹسمین ہوں گے۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران انٹرنیشنل لیول پر مختصر فارمیٹس میں ترقی پانیوالے بیلی کو امید ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ پر بھی دسترس حاصل کرنے کے قابل ہوں گے، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ماضی کے تجربے کے مقابلے میں یہ انتہائی مختلف موقع ہے ۔