مشرف کو سزائے موت ہو سکتی ہے سعید الزماں صدیقی صفائی کا پورا موقع ملنا چاہیے وجیہہ الدین

غداری کے مقدمے میں اہم شخصیات شہادت کیلیے آسکتی ہیں ، رشید اے رضوی


Staff Reporter November 19, 2013
حساس معاملہ ہے اسلیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے،جسٹس وجیہہ، مشرف نے 1999اورپھر 2007میں آئین توڑا، سزا ملنی چاہیے ، مصطفی لاکھانی فوٹو : اے ایف پی/فائل

سابق جنرل پرویز مشرف کے خلاف الزامات ثابت ہوچکے ہیں تاہم کچھ کچھ قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔

اس کے لیے حکومت کے پاس مختلف آپشنز ہیں جس میں سے انھوںنیخصوصی عدالت کا راستہ اختیارکرنے کی کوشش کی ہے ، یہ باتیں مشرف حکومت میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سابق چیف جسٹس آف پاکستان سعید الزمان صدیقی ، پرویز مشرف کے اقدامات کو غیر قانونی دینے والے مقدمے کے مرکزی وکیل رشید اے رضوی اور دیگر نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی ، سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی نے کہاکہ پرویز مشرف کے خلاف کارروائی سے ان اداروں کو بھی سگنل جائے گا کہ آئین توڑنے کا کیاانجام یہ ہوتا ہے ، تفصیلات کے مطابق سابق جسٹس رشید اے رضوی نے بتایاکہ ہائی ٹریژن ایکٹ مجریہ 1976کے تحت وفاقی حکومت کے افسر کو سیشن جج کو غداری کے مقدمے کی شکایت کرنا ہوتی تھی۔

تاہم 1956اور 1957 میں وفاقی اور صوبائی سطح پر دو قانون بنائے گئے ، جس کے تحت مختلف قسم کے کمیشن اورٹریبونل تشکیل دے کر مختلف معاملات کی انکوائریاں کرائی جاتی ہیں ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا حمود الرحمن کمیشن بھی انہی قوانین کے تحت تشکیل دیا گیاتھا۔



تاہم ان معاملات میں کمیشن یا ٹریبونل کو سزا کا اختیارنہیں ہوتا، سابق چیف جسٹس آف پاکستان سعید الزماں صدیقی نے کہا کہ سابق ڈکٹیٹر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ درست اور مستقبل کیلیے خوش آئند ہے، اس کارروائی سے کسی سیاسی بحران یا اداروں کے مابین تصادم کاخدشہ نہیںکیوں کہ یہ ممکن نہیں کہ متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیے بغیر یہ فیصلہ کیاگیا ہو،ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ طویل عمل ہے تاہم جرم ثابت ہونے پر سابق ڈکٹیٹر کو سزائے موت ہوسکتی ہے ۔

جسٹس(ر)وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ سابق ڈکٹیٹرکے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا حساس معاملہ ہے اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے،ٹرائل کے دوران حکومت یا عدلیہ کی جانب سے یہ تاثر نہیں آناچاہیے کہ پرویز مشرف سے انتقام لیاجارہا ہے،انہیں صفائی کا مکمل موقع ملنا چاہیے۔پرویز مشرف کے معاونین کے خلاف مقدمہ چلانے سے متعلق ایک سوال پر جسٹس(ر)وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ابتدا میں آئین کی دفعہ6میں یہ شق شامل نہیں تھی تاہم اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ذیلی شق 2 کا اضافہ کا گیا ہے جس سے کچھ پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مصطفیٰ لاکھانی نے کہا کہ پرویز مشرف نے 1999مین بھی آئین توڑا اور 2007میں بھی اس لیے انہیں سزا ملنی چاہیے۔