عوام 18 روپے میں بھی بجلی لینے کو تیار ہیں لیکن بجلی دی تو جائے چیف جسٹس

قانون کا احترام کرنے والے کا ساتھ دیا جانا چاہیے کنڈے ڈالنے والوں کا نہیں، چیف جسٹس


ویب ڈیسک November 19, 2013
قانون کا احترام کرنے والے کا ساتھ دیا جانا چاہیے کنڈے ڈالنے والوں کا نہیں، چیف جسٹس۔ فوٹو: فائل

KARACHI: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عوام 18 روپے میں بھی بجلی لینے کو تیار ہیں لیکن بجلی دی تو جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لوڈشیڈنگ اور بجلی نرخ بڑھانے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے نیپرا کے وکیل سے استفسار کیا کہ سبسڈی دینے اور واپس لینے کا طریقہ کار کیا ہے، ماضی میں حکومت نے کیا طریقہ کار اختیار کیا، لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے اوپر سے نرخ بھی بڑھا دیے جاتے ہیں، آپ کے پاس فارمولا کیا ہے، جو بھی بل دیتا ہے اس کے لیے لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے، جو کنڈا ڈالے اسے بجلی نہ دی جائے، پالیسی بنانا نیپرا کا کام ہے ہمارا نہیں۔

جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ سارا مسئلہ ٹیرف کے تعین کا ہے مگر کوئی پالیسی نہیں، نیپرا کے ناک کے نیچے کتنا ظلم ہو رہا ہے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نیپرا نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرنی تو بند کردیا جانا چاہیے، جس پر نیپرا کے وکیل نے کہا کہ حکومت بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے مختلف منصوبے بنارہی ہے، جواب میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہےتوایسی ہی باتیں کرتی ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ عوامی حقوق کا تحفظ بھی آئینی ذمہ داری ہے، عوام کی بھلائی کا بھی سوچا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر نوازنے سے گریز کریں، ایک آدمی اپنے بچے نہیں پال سکتا اسے فنی باتوں سے کیا سروکار، آپ نے یہ کیو ں نہ کیا کہ اپنا منافع کم کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ پہلی حکومت رینٹل پاور لائی مگر عوام کو ریلیف نہ ملا، اگر عوام قربانی مانگیں تو حکومت کو قربانی دینی چاہیے ،عوام 18 روپے دینے کو تیار ہیں لیکن بجلی تو دی جائے، قانون کا احترام کرنے والے کا ساتھ دیا جانا چاہیے کنڈے ڈالنے والوں کا نہیں۔