قائم علی شاہ کی دبئی میں ملاقات آصف زرداری نے سندھ کابینہ میں تبدیلی کی منظوری دیدی

دسمبرکے پہلے ہفتے میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کیلیےعوامی رابطہ مہم شروع کی جائے، قائم علیشاہ کوہدایت


Staff Reporter November 20, 2013
متحدہ سمیت تمام سیاسی قوتوں سے رابطوں کوفعال کیاجائے، ملاقات میں رحمن ملک، شرجیل میمن،مراد علی شاہ بھی موجود تھے فوٹو: فائل

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے سندھ کابینہ میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے اور انھوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہدایت کی ہے کہ سندھ کابینہ میں جن وزرا کی کارکردگی بہترنہیں ہے انھیں فارغ کردیا جائے۔

جبکہ انھوں نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کے لیے بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لیے تمام اضلاع میں عوامی رابطہ مہم دسمبر کے پہلے ہفتے سے شروع کی جائے اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی جائیں جبکہ بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کے انتخاب کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر انتخابی بورڈز قیام کیے جائیں۔انھوں وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایت کی متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام سیاسی قوتوں سے رابطوں کو فعال کیا جائے اور اہم عوامی امور پران سیاسی قوتوںسے مشاورت کی جائے۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق منگل کودبئی میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی ۔ملاقات میں سابق وزیر داخلہ رحمنٰ ملک ،صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن اور مراد علی شاہ بھی موجود تھے۔



اس ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے سیاسی حالات،بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور اس حوالے سے پیپلزپارٹی کی تیاریوں ،تنظیمی امور،کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن،ایم کیو ایم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے،سندھ حکومت کی کارکردگی خصوصاً سندھ کابینہ میں متوقع تبدیلیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔سابق وزیر داخلہ رحمنٰ ملک نے ملاقات میں ایم کیوایم سے رابطوں کے حوالے سے آگاہ کیا ۔ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے ہدایت کی کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت اپنی اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے امیدواروں کا انتخاب کرے۔انھوں نے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔انھوں نے پارٹی قیادت کو ہدایت کی سندھ میں پارٹی کے تنظیمی سیٹ اپ میں تبدیلیوں کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے اور ناراض کارکنان کو منانے کی بھی ہدایت کی۔