سندھ کابینہ نے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں مؤثر، شفاف اور جدید پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک کے قیام کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پی پی پی یونٹ کی تنظیمِ نو کی منظوری دے دی۔
کابینہ نے پی پی پی یونٹ کو مکمل سرکاری ملکیت کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت، منصوبوں پر عملدرآمد اور مالیاتی پائیداری کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق نئی کمپنی کمپنیز ایکٹ 2017ء کے تحت قائم کی جائے گی اور موجودہ پی پی پی یونٹ کی جانشین ہوگی۔ نئی کمپنی پی پی پی پالیسی سازی، گورننس، منصوبوں کی سہولت کاری اور پورٹ فولیو مینجمنٹ کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ تنظیمِ نو کے ذریعے پی پی پی منصوبوں کی نگرانی کو مزید مؤثر اور جدید بنایا جائے گا۔
سندھ کابینہ نے نئی پی پی پی کمپنی کے لیے 8 ارب روپے مجاز سرمایہ، 2 ارب روپے ادا شدہ سرمایہ اور کمپنی کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے بطور ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی۔ کابینہ نے کمپنی کے قیام سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کرنے کا اختیار محکمہ خزانہ کو سونپ دیا، جبکہ موجودہ ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ نئی کمپنی کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہوں گے۔
کابینہ نے سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی بھی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ان ترامیم سے پی پی پی نظامِ حکمرانی کو مزید مضبوط قانونی بنیاد ملے گی، صوبے بھر میں پی پی پی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت مزید مؤثر ہوگی، نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر، پائیدار اور سرمایہ کار دوست بنا رہی ہے، جبکہ ان اصلاحات سے انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں بھی مدد ملے گی۔