نظام آف حیدرآباد کے 35 ملین پاؤنڈز ورثا اور بھارتی حکومت میں تقسیم

برطانوی عدالت نے پاکستانی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے 35 ملین پاؤنڈز ورثا اور بھارتی حکومت میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا


ویب ڈیسک February 15, 2020
ساتویں نظام میر عثمان صدیقی نے 1948ء میں یہ رقم پاکستانی ہائی کمشنر کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی تھی (فوٹو : فائل)

لندن کی رائل کورٹ آف جسٹس کے حکم کی تعمیل میں نظام آف حیدرآباد کے 35 ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم ورثا اور بھارتی حکومت کے درمیان تقسیم کردی گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ لندن میں بھارتی سفارت خانے اور نظام آف حیدر آباد کے ورثا نے 35 ملین پاؤنڈز میں سے اپنا اپنا حصہ ملنے کی تصدیق کی ہے تاہم بھارتی سفارت خانے نے 35 ملین پاؤنڈز میں سے اپنا حصہ بتانے سے گریز کیا جب کہ آٹھویں نظام کے ورثا کے وکلا نے رقم میں سے اپنا حصہ اور 65 فیصد قانونی اخراجات عدالت کے ذریعے ملنے کی تصدیق کی۔

یہ خبر پڑھیں : برطانوی عدالت نے نظامِ حیدرآباد فنڈ کیس میں پاکستانی دعویٰ مسترد کردیا

یہ معاملہ 1948ء کے بعد سامنے آیا تھا جب 71 برس قبل نظام آف حیدر آباد نے پاکستانی ہائی کمشنر کے اکاؤنٹ میں امدادی رقم 10 لاکھ پاؤنڈز جمع کرائے تھے جس میں اب 35 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس رقم کے لیے نظام آف حیدرآباد کے ورثا مکرم جاہ اور مفرح جاہ نے دعویٰ دائر کیا تھا جس میں بھارتی حکومت بھی فریق بن گئی تھی۔

گزشتہ برس اکتوبر میں لندن میں رائل کورٹ آف جسٹس نے دہائیوں سے جاری مقدمے کا فیصلہ نظام آف حیدرآباد کے ورثا کے حق میں دیتے ہوئے رقم پر پاکستان کے دعوے کو مسترد کردیا تھا۔ عدالت نے یہ رقم ورثا اور بھارتی حکومت کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس کیس میں پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ یہ رقم نظام حیدرآباد کی جانب سے پاکستان کےعوام کے لیے تحفہ تھی جو کہ اس وقت کے پاکستان کے ہائی کمشنر حبیب ابراہیم رحمت اللہ نے نیٹ ویسٹ بنک میں جمع کروائی تھی اور آج تک یہ رقم انہی کے اکاؤنٹ میں موجود تھی۔