بلدیاتی انتخابات آئندہ برس مارچ میں ہونے چاہئیں شرجیل میمن

تمام انتظامات ہونے کے بعدالیکشن ہونے چاہئیں،وزیراعلیٰ سندھ کوکابینہ میں ردوبدل کااختیارہے


Staff Reporter November 22, 2013
سعودیہ 2 لاکھ واٹرمیٹر فراہم کریگا، سالانہ 3 ارب روپے کاپانی چوری روکنے کیلیے نصب کرینگے۔ فوٹو: فائل

لاہور: سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات آئندہ سال مارچ میں ہونے چاہئیں۔

انتخابات کے انعقاد اور اس سے متعلق امورکے جائزے کیلیے وزارتی کمیٹی کے اجلاس میں غور کیا جائیگا اور جلداس حوالے سے لائحہ عمل کااعلان کریں گے، غیرقانونی ہائیڈرینٹس چلانے والوںکو4دن میں غیر قانونی ہائیڈرینٹس بندکرنے کی وارننگ دی ہے اس کے بعد نہ صرف ہائیڈرنٹس آپریٹرز بلکہ متعلقہ حدکے ذمے دارافسران اورایس ایچ اوکیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔وزیرا علیٰ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ سندھ کابینہ میں تبدیلی کے حوالے سے میڈیامیں آنیوالی اطلاعات قیاس آرائیاں ہیں،پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے سندھ کابینہ کی کارکردگی پرعدم اطمینان کااظہارنہیںکیا،وزیراعلیٰ کے پاس اختیارہے کہ وہ جب چاہیں کابینہ میں تبدیلی کر سکتے ہیں جبکہ پارٹی قیادت بھی عہدیداروں میں تبدیلی کرسکتی ہے۔



انھوں نے واضح کیاکہ دبئی میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں ترقیاتی کاموںباالخصوص توانائی، تعلیم، صحت اورامن امان توجہ کامرکزرہے کیونکہ یہ شعبے حکومت سندھ کی ترجیحات میں شامل ہیں،کراچی میں سالانہ3ارب روپے کاپانی چوری ہورہاہے،پانی کی چوری روکنے کیلیے سعودی عرب کی ایک کمپنی نے کراچی کیلیے2لاکھ واٹرمیٹر فراہم کرنے پررضامندی ظاہرکی ہے جوکہ شہرمیں نصب کیے جائیں گے اس سے پانی کی چوری پربڑی حدتک قابوپالیںگے۔انھوں نے کہاکہ حکومت سندھ چاہتی ہے تمام انتظامات مکمل ہونے کے بعد بلدیاتی انتخابات مارچ2014میں کروائے جائیں، کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ منسوخ نہیں کیاگیااس منصوبے پروفاقی حکومت،سندھ حکومت اور دیگر ڈونرایجنسیوں کے ذریعے جلدکام کاآغازکیاجائیگا۔

دریں اثنااپنے دفترمیں محکمہ بلدیات اور واٹر بورڈ کے اعلیٰ اہلکاروں کے اجلاس کے دوران شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کے ای ایس سی ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجودواٹر بورڈ کی تنصیبات پر لوڈشیڈنگ شروع کرکے توہین عدالت کی مرتکب ہوئی،بہت جلد محکمہ بلدیات اس اقدام کوعدالت میں چیلنج کرے گا،کے ای ایس سی کراچی کے عوام کولوڈشیڈنگ کے بعداب پانی کے بحران میں مبتلا کررہی ہے،غیر قانونی ہائیڈرینٹس کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے ۔انھوں نے کہاکہ سندھ ہائی کورٹ نے واٹربورڈ کی بجلی کے حوالے سے کے ای ایس سی کو واضح احکامات دیے کہ نہ ہی اس ادارے کی بجلی منقطع کی جائے اورنہ ہی وہاں لوڈشیڈنگ کی جائے لیکن کے ای ایس سی نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے برخلاف واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنوں پرلوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس سے شہر میں پانی کا بحران پیدا ہوگیاہے،کئی وفاقی اداروں پر واٹر بورڈ کے اربوں روپے کے واجبات ہیں اور انہیں وصول کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو کہا گیا ہے۔