پشاور:
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جو سومنات والی بات پر غصے میں آ گئے انہیں اس وقت غیرت نہیں آئی جب معصوم شہریوں پر گولیاں چلائی گئیں، چار اکتوبر کو ایک بار پھر دما دم مست قلندر ہوگا اور پانچ اکتوبر کو عمران خان کی سالگرہ یومِ فتح کے طور پر منائیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ بات اتوار کے روز مالاکنڈ کے مختصر دورہ میں چکدرہ انٹرچینج پر استقبال پر آئے کارکنوں سے خطاب میں کہی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ملاکنڈ کے عوام کے شکر گزار ہیں اور ان کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ برقرار رہنا چاہیے، ہم چار اکتوبر کو اسی جذبے اور جنون کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم عمران خان کے نڈر اور غیرت مند کھلاڑی شکیل خان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہاں جمع ہیں۔ انہوں نے صوبائی وزیر شکیل خان اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ روا رکھے گئے غیر جمہوری رویے کی مذمت کی اور کہا کہ مخالفین سادہ لباس میں جتنی مرضی غنڈہ گردی کرلیں، ہمارے جذبے اور نظریے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ چار اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ اور تقدیر دونوں بدل دیں گے، کوئی بھی چیز اور کوئی بھی طاقت ہمیں اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص کرسی اور عہدے کے پیچھے بھاگے، وہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اس کی سوچ بھی چھوٹی ہوتی ہے۔ ہمیں کرسی اور عہدہ نہیں بلکہ اپنے ملک میں انصاف کی بالادستی، جمہوریت کی بحالی اور حقیقی آزادی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم کے بعد عدالتیں مفلوج ہو چکی ہیں، ہم نے ہر حربہ آزمایا اور انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسی لیے اب ہم نے اپنے لیڈر، انصاف اور اپنے مستقبل کے لیے چار اکتوبر کو نکلنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گاڑیاں نہیں جائیں گی، تو کیا ہوا، ہم موٹر سائیکل پر جائیں گے، اگر موٹر سائیکل پر جانا ممکن نہ ہوا تو سائیکل پر جائیں گے، سائیکل بھی نہ ہوئی تو پیدل جائیں گے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ آج ملک کی معیشت تباہ حال ہے، نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان چھوڑ کر بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں، مگر حکمرانوں کی غیرت اس صورتحال پر خاموش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم محبِ وطن پاکستانی ہیں اور اپنے آئینی، جمہوری اور بنیادی حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ ہم حقیقی آزادی کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی دباؤ یا رکاوٹ کے سامنے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔