مشرف کی درخواست قانون کے مطابق نہیں وزارت داخلہ

مجازشخصیت نے دائرکی نہ عدالتی حکم کیخلاف اپیل کی،ای سی ایل سے نام نکالنے پر کمنٹس


Staff Reporter November 23, 2013
خودکوعدالت کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا اور مقدمات کاسامناکیا، درخواستگزار کا موقف، فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے متعلق درخواست پر وزارت داخلہ کے کمنٹس آنے کے بعد جواب الجواب کیلیے سماعت 26 نومبرکیلیے ملتوی کردی۔

وزارت داخلہ نے کمنٹس میں موقف اختیارکیا ہے کہ پرویزمشرف کی جانب سے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست قانونی نہیں ہے کیونکہ یہ مجاز شخصیت کی جانب سے دائر نہیں کی گئی، درخواست کے ساتھ منسلک کیے گئے حلف نامہ درخواست گزار کے کسی برادر نسبتی کی جانب سے دائرکیا گیا ہے، درخواست کے ساتھ نیا وکالت نامہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ درخواست سٹی تھانہ راولپنڈی میں درج بے نظیر بھٹو قتل کیس471/2007اور ڈیرہ بگٹی تھانہ میں درج نواب اکبر بگٹی قتل کیس 26/2009میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں کے ساتھ متفرق درخواست کے طور پرداخل کی گئی ہے جبکہ یہ عدالت ان درخواستوں کونمٹاچکی ہے، نمٹائے جانے والے معاملات کے ساتھ متفرق درخواست دائرنہیں کی جاسکتی۔



اس کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی جاری کی تھی کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کی اجازت کے بغیرملزم ملک نہیں چھوڑ سکتا، لیکن درخواست گزار نے موجودہ درخواست میں یہ نہیں بتایاکہ اس نے ٹرائل کورٹ سے اس ضمن میں رجوع کیا یا نہیں، وزارت داخلہ نے مزید نشاندہی کی کہ اس عدالت نے ملک نہ چھوڑنے کا حکم 29مارچ2013 کو جاری کیاتھا، ملزم نے اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی، اس لیے یہ فیصلہ حتمی ہوگیا، فاضل بینچ نے وزارت داخلہ کے کمنٹس کا جواب داخل کرنے کے لیے سماعت ملتوی کردی، پرویز مشرف نے درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ اس نے متعدد مقدمات میں سندھ ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی بعد ازاں خود کوعدالت کے رحم و کرم پر چھوڑا اور مقدمات کا سامنا کیا۔

حفاظت ضمانت کی توسیع کی درخواست کی سماعت کے موقع پر فاضل عدالت کے ایک دورکنی بینچ نے29مارچ2013کو اپنے حکم میں قراردیا تھا کہ درخواست گزار متعلقہ عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کرسکتا۔درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ مذکورہ مقدمات کی سماعت کے دوران متعلقہ عدالتوں نے درخواست گزار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی ہدایت کی اور نہ ہی کسی ایجنسی نے سفارش کی مگر فاضل عدالت کے احکام پرنام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا ہے، اس لیے استدعا ہے کہ حکم واپس لیا جائے۔