کورنگی جَام صادق پل پر ٹریفک جام میں ڈاکوؤں کی لوٹ مار

درجنوں شہریوں سے موبائل فون ، پرس اور دیگر قیمتی اشیا چھین لیں،ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے


Staff Reporter November 26, 2013
دوران واردات پولیس کے علاوہ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی غائب ہوتے ہیں ۔ فوٹو ایکسپریس)

شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کے دوران لوٹ مار کا سلسلہ معمول بن گیا اور اس دوران پولیس کے علاوہ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی غائب ہوتے ہیں ۔

جس کی وجہ سے ملزمان باقاعدہ ناکہ لگا کر سیکڑوں گاڑیوں میں سوار افراد کو نقدی و دیگر قیمتی اشیا سے محروم کرکے باآسانی فرار ہوجاتے ہیں ، کورنگی کے علاقے جام صادق پل پر بھی پیر کی شام بد ترین ٹریفک جام ہوگیا اور اس دوران نصف درجن سے زائد مسلح افراد باآسانی شہریوں کو ان کی قیمتی اشیااور نقدی سے محروم کرگئے ، تفصیلات کے مطابق شہر میں موجود جرائم پیشہ افراد جہاں گھروں میں لوٹ مار کرتے ہیں تو اب وہیں ٹریفک جام کی صورتحال ان کی پسندیدہ سرگرمی بنتی جارہی ہے ، شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کے دوران لوٹ مار اب معمول بن گیا ہے۔

ٹریفک جام کے دوران مسلح افراد قریبی گلیوں اور سڑکوں سے نکل کر آتے ہیں اور آزادانہ طور پر اسلحہ لہراتے ہوئے شہریوں سے ان کا قیمتی مال و متاع چھین کر فرار ہوجاتے ہیں ، اس موقع پر پولیس اہلکاروں کے علاوہ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی چونکہ عموماً غائب ی رہتے ہیں۔



جس کی وجہ سے ملزمان انتہائی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر ناکہ لگاتے ہیں اور شہریوں کو لوٹ لیتے ہیں ، ایسا ہی سنگین واقعہ پیر کی شام کورنگی کے علاقے جام صادق پل پر پیش آیا جہاں ٹریفک جام کے دوران اچانک مسلح افراد نکل آئے اور شہریوں سے لوٹ مار شروع کردی ۔

مسلح افراد نے گاڑیوں میں موجود خواتین اور بچوں کو یرغمال بنایا اور شہریوں سے موبائل فون ، پرس اور دیگر قیمتی اشیا چھین لیں ، موقع پر موجود متعدد افراد نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس دوران کچھ دور گاڑی میں سوار افراد نے پولیس کو بھی مطلع کیا لیکن پولیس پھر بھی موقع پر نہ پہنچ سکی ، مسلح افراد نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار ہوکر تمام مسافروں کو بھی نہیں بخشا اور انتہائی اطمینان کے ساتھ لوٹ مار کی ، شہریوں نے بتایا کہ تقریباً 15 منٹ تک ملزمان پل پر ٹریفک جام میں لوٹ مار کرتے رہے لیکن کوئی بھی شہریوں کی مدد کو نہیں آیا ۔

شریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار عام حالات میں تو شہر کی سڑکوں پر اسنیپ چیکنگ کے نام پر موجود ہوتے ہیں لیکن جب ہنگامی کال کی جائے تو نجانے وہ کہاں غائب ہوجاتے ہیں ، شہریوں نے آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات سے اپیل کی ہے کہ وہ کم از کم پولیس میں اتنی پھرتی پیدا کردیں کہ اگر کوئی ایمرجنسی کال موصول ہو تو پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ جائے اور شہریوں کی مدد کی جاسکے ، شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ٹریفک جام کے دوران لوٹ مار کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے ۔