انصاف کی فراہمی کا خواب تاحال شرمندہ تعبیرنہیں ہواچیف جسٹس

ہمارے نظام قانون کی ناکامی ہے یہ اپنے موثرہونے پرسمجھوتہ کرلیتا ہے ، الوداعی عشایئے سے خطاب


Staff Reporter November 28, 2013
کراچی: چیف جسٹس افتخار چوہدری کو سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین شیلڈ پیش کررہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے۔

جہاں شاید ہر طرح کے قوانین موجود ہیں مگر شہریوں کو انصاف کی فراہمی کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ،ہم21ویں صدی کے مسائل19ویں صدی کے اوزاروں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، بینچ اور بار کے درمیان مسائل خراب نہیں ہونے چاہیں اور انھیں مل جل کر حل کرنا چاہیے ،وہ بدھ کی شب سندھ بار کونسل کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے الوداعی عشایئے سے خطاب کررہے تھے،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ہمارے نظام قانون کی یہ ناکامی ہے کہ یہ اپنے موثر ہونے پر سمجھوتہ کرلیتا ہے ۔



انھوں نے کہاکہ محض جدید ٹیکنالوجی کے حصول سے ہی تمام مسائل حل نہیں ہوسکتے ہمیں مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرتے ہوئے نظام قانون اورخود کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی میں وکلا برادری باالخصوص سندھ کے وکلاکا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ججزکو حق گوئی اور بے باکی سیکھائی ہے اور ججز اسی سبق پرکاربندہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ چیف جسٹس افتخارر محمد چوہدری نے آئین و قانونی کی بالادستی کیلیے جو کردار ادا کیا اور ہمت و جرات کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھے گی،انھوں نے کہا کہ اس موقع پر سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے جنھوں نے پہلی بار آمر کے سامنے انکار کیا تھا،جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے قانون کی بالادستی کا راستہ اپنایا ہے عدلیہ اسی پر چلتی رہے گی ۔