افغانستان جاتے6687 نیٹوکنٹینرزراستے سے غائب

معاملہ حادثاتی نہیں،سینئرمینجمنٹ ایف بی آر،فیلڈمارمشنزملوث ہیں،تحقیقاتی رپورٹ


Irshad Ansari September 05, 2012
معاملہ حادثاتی نہیں،سینئرمینجمنٹ ایف بی آر،فیلڈمارمشنزملوث ہیں،تحقیقاتی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے امریکی افواج اور نیٹو وایساف کے نام پرمنگوائے گئے کنٹینرزکے غائب ہونے میں مبینہ طورپرملوث سپلائرز ایجنٹس و دیگرمتعلقہ لوگوں اورکسٹمزحکام کوشوکاز نوٹس جاری کرنا شروع کردیئے ہیں۔

ایف بی آرکے سینئرافسر نے بتایاکہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس کیس میں55 ارب روپے کے کنٹینرسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ممبرایف بی آرحافظ انیس کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈکے نام پرمنگوائے جانے والے بغیرڈیوٹی اور ٹیکسوںکے کلیئر32ہزار198کمرشل ونان کمرشل کنٹینرز سکینڈل کے بعدپاکستان سے ٹرانزٹ کیلئے آنے والے 6687 نیٹوکنٹینرزبھی افغانستان پہنچنے کی بجائے راستے میں غائب ہوئے ہیں جس پر چیئرمین ایف بی آرنے کارروائی کی منظوری دیدی ہے جس پرسکینڈل میں ملوث کلیئرنگ ایجنٹس ، بارڈرزایجنٹس ودیگرحکام کوشوکازنوٹس جاری کرنا شروع کردیئے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق راستے میں غائب ہونیوالے کنٹینرزکاکوئی الیکٹرانک یا مینوئل ریکارڈموجود نہیں ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ کنٹینرزسکینڈل میں ایف بی آرکی سینئرمینجمنٹ اورفیلڈ مارمشنز کے لوگ ملوث ہیں جبکہ اس کیس کی تحقیقات میں سنگین نوعیت کی قانونی خلاف ورزیاں،بے ضابطگیاں،جان بوجھ کرنان کمپلائنس سمیت دیگر اہم نوعیت کے انتظامی نقائص سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان پہنچنے کی بجائے راستے میںکنٹینرزکا غائب ہوناکوئی حادثاتی معاملہ نہیں بلکہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ کیاگیا ہے جوایک جرم ہے۔ اسکینڈل کاحجم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اتنے عرصے تک یہ کرائم ایف بی آرکی سینئرمینجمنٹ کی ملی بھگت کے بغیرجاری نہیں رہ سکتا،بھاری مقدار میںریونیوکے نقصان اور آئے روزہونیوالے ایسے واقعات ایف بی آرمینجمنٹ کے کمانڈاینڈ کنٹرول کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈکارگو کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اورپاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل سمیت قائداعظم انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل پران لوڈہوتا تھا جسے غیر قانونی طور پرکراچی پورٹ ٹرسٹ منتقل کیا جاتا تھا۔ ایف بی آرنے جنوری2006ء میں ایک مرتبہ کیلئے ہائرڈمکینیکل ٹرانسپورٹ کی اجازت دی تھی مذکورہ سسٹم کوبورڈ کی طرف سے اختیارات دیئے بغیراستعمال کیا گیااوراس وقت کے چیف کلکٹرسائوتھ نے منظوری دیتے وقت اختیارات سے تجاوز کیا۔

مقبول خبریں