سندھ بلدیاتی آرڈیننس اور حلقہ بندیوں کو چیلنج کرنیکا اعلان

نئی حلقہ بندیوں اوربلدیاتی آرڈیننس پراپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیاگیا،عرفان اللہ مروت


Staff Reporter November 29, 2013
نئی حلقہ بندیوں اوربلدیاتی آرڈیننس پراپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیاگیا،عرفان اللہ مروت. فوٹو فائل

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ(فنکشنل)نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس اور صوبے میں کی جانیوالی نئی حلقہ بندیوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کااعلان کیاہے جبکہ تحریک انصاف کاکہناہے کہ اس حوالے سے دیگر اپوزیشن جماعتوں کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ(ن)کے پارلیمانی لیڈرعرفان اللہ مروت نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئی حلقہ بندیوں اورنئے بلدیاتی ترمیمی آرڈیننس پراپوزیشن جماعتوں کواعتمادمیں نہیں لیاگیا،یہ آرڈیننس پیپلزپارٹی اوراس کی مفاہمتی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے جاری کیا گیاہے ،جسے ہم مستردکرتے ہیں ،اس آرڈیننس کے نفاذکے بعد بلدیاتی انتخابات میں آزادامیدوار کا انتخاب لڑنا ناممکن ہوگیا ہے،جو آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے،ایسی ناانصافی توعام انتخابات میں بھی نہیں کی گئی تھی ،ہم اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرینگے ۔



مسلم لیگ(فنکشنل) کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحرعباسی نے کہاکہ سندھ میں نئی حلقہ بندیاں حکومت نے اپنی مرضی سے کی ہیں،جو انتخابی دھاندلی کے مترادف ہے جبکہ اب انتخابات میں مزید دھاندلی کے لیے نیا ترمیمی بلدیاتی آرڈیننس جاری کیا گیاہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں اوراس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے ۔تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی سیدحفیظ الدین نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ سندھ میں نئی حلقہ بندیوں اوربلدیاتی آرڈی ننس پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے اوراپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے حکمت عملی طے کی جائے گی اورہم انکے فیصلوں کی حمایت کریںگے۔