قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل کی منظوری دے دی

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بل کی منظوری پر تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کیا


ویب ڈیسک March 11, 2020
وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے زینب الرٹ بل منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا ۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل کی دوبارہ منظوری دے دی۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے زینب الرٹ بل ایوان میں پیش کیا جو کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا۔ وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے بل کی منظوری پرتمام جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سینیٹ نے زینب الرٹ بل 2020ء کی منظوری دے دی

جماعت اسلامی کے رکن مولانا اکبر چترالی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں سے زیادتی پر سزائے موت نہ دے کر درندوں کو شہہ دی جارہی ہے، بچوں سے زیادتی کی سزا پھانسی رکھی جائے۔

بل میں سزائے موت اور قصاص کو ختم کردیا گیا ہے اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم 7 سال قید کی سزا ہوگی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: زینب الرٹ سمیت 5 بل قومی اسمبلی سے منظور

کسی بھی بچے کے اغوایاجنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہوگی۔ پولیس بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کی پابند ہوگی۔