1884طلبا کو3کروڑ50لاکھ روپے کی اسکالر شپ دی چانسلر سرسید یونیورسٹی

یونیورسٹی میں آرکیٹکچر، سافٹ وئیر انجینئرنگ اور بائیو انفارمیٹکس ٹیکنالوجیز متعارف کرائی جارہی ہیں، عادل عثمان


Staff Reporter December 04, 2013
سرسید یونیورسٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس درس گاہ میں کسی بھی طالب علم کو محض مالی تنگی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رکھا جاتا۔فوٹو:فائل

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائزایسوسی ایشن کے صدر اور سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد عادل عثمان نے کہا ہے کہ سرسید یونیورسٹی اپنے اعلیٰ معیار تعلیم اورطلبا کو دستیاب عمدہ سہولت کے باعث تیزی سے ترقی کے منازل طے کررہی ہے۔

ہماری ترقی اور کامیابی کا اہم ثبوت یہ ہے کہ نئے تعلیمی سال سے سرسید یونیورسٹی میں 3 نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی جارہی ہیں جن میں آرکیٹکچر، سافٹ وئیر انجینئرنگ اور بائیو انفارمیٹکس کے شعبہ جات شامل ہیں ، سرسیّد یونیورسٹی نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک نہ صرف بہترین تعلیم و تربیت پر توجہ دی ہے، ایسے انجینئرز کی ایک بڑی تعداد پیدا کی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنی ہنرمندی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کررہے ہیں ،یہ بات انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس عمومی سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔



انھوں نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس درس گاہ میں کسی بھی طالب علم کو محض مالی تنگی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رکھا جاتا بلکہ یونیورسٹی کی جانب سے قابل،ذہین اور نادار طلبہ و طالبات کی مالی اعانت بھی کی جاتی ہے ، چانسلرمحمد عادل عثمان نے اس موقع پر بتایا کہ گزشتہ سال یونیورسٹی کی جانب سے اسکالر شپ و مالی امداد کی مد میں 1884 طلبہ و طالبات کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے بطور مالی امداد دیے گئے،انجینئر محمد عادل عثمان نے کہا کہ سسکو(CISCO) اکیڈمی کا قیام بھی یونیورسٹی کا ایک اہم کارنامہ ہے ، یہ اعزاز کی بات ہے کہ نیٹ ورکنگ کی تعلیم کے علاوہ اب یونیورسٹی کو آن لائن امتحان کا مرکز بھی بنا دیا گیا ہے، محمد عادل عثمان نے کہا کہ کیمپس میں نئے بلاک کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے یہ بلاک 8منزلہ عمارت پر مشتمل ہوگا قبل ازیں ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مختار احمد نقوی نے ایسوسی ایشن کی گزشتہ سال کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ پیش کی ۔