بلوچستان میں پائیدار امن ناگزیر ہے

بلوچستان میں امن کے قیام کی فوری کوششیں کی جائیں


Editorial September 05, 2012
طلال اکبر بگٹی کا عدالت کو کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی خرابی کی ذمے دار ’’ایف سی‘‘ ہے اور ایف سی کی موجودگی میں ڈیرہ بگٹی جانا خودکشی کے مترادف ہے۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کا ایشو حل ہونے تک بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ برقرار رہے گا۔ کیس کی سماعت منگل کو سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل عدالت میں موجود نہیں تھے جس پر چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل نہیں آ رہے تو چھ وفاقی سیکریٹریوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے متعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ قلات میں چھ ہندو اغوا ہوئے کیا کسی کو پتہ ہے؟ اس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا ہم مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں تاہم چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس اتنا وقت نہیں جتنا جرم بڑھ گیا ہے۔ اکبر بگٹی کے بیٹے اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال اکبر بگٹی نے عدالت میں ایک لاپتہ شخص کو پیش کیا جس نے عدالت کو بتایا کہ اسے چمن شہر کے ایک تھانے میں قید رکھا گیا۔

طلال اکبر بگٹی کا عدالت کو کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی خرابی کی ذمے دار ''ایف سی'' ہے اور ایف سی کی موجودگی میں ڈیرہ بگٹی جانا خودکشی کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایک سرکاری ٹیم ڈیرہ بگٹی جا کر صورت حال کا جائزہ لے اور دو ہفتے کے اندر ڈیرہ بگٹی کا مسئلہ حل کرے۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے بھی کہا ہے کہ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی' اساتذہ' سرکاری ملازمین اور دیگر معصوم لوگ قتل ہو رہے ہیں' آخر حکومت کیا کر رہی ہے' خفیہ ہاتھوں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے حکمران حقائق سامنے لائیں۔

ہمارے خیال میں بلوچستان کے بارے میں عدلیہ جو کچھ کر رہی ہے اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نے جو کچھ کہا ہے ان سارے ایشوز پر حکومت کو از خود توجہ دینا چاہیے تھی' اسے خود ادراک کرنا چاہیے تھا کہ ملک کے اس معدنی ذخائر سے مالامال صوبے کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا' یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیوں عدلیہ اور اپوزیشن کو بار بار حکومت کو یہ باور کرانا پڑ رہا ہے کہ بلوچستان پر توجہ دی جانی چاہیے؟

ہمارا سب سے بڑا صوبہ مسلسل سلگ رہا ہے' وہاں روزانہ دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جیسا کہ منگل کو بھی کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں بارودی سرنگ دھماکوں' چیک پوسٹ پر حملے اور فائرنگ کے واقعات میں لیویز اہلکار سمیت دو افراد جاں بحق اور ایک حملہ آور مارا گیا جب کہ سات افراد زخمی ہوئے لیکن حکومت کی جانب سے محض زبانی دعوے کیے جا رہے ہیں۔ صورتحال سے واضح ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو حالات خراب سے خراب تر ہو جائیں گے جن کو بہتر بنانا ممکن نہیں رہے گا۔

حکومت کی جانب سے تساہل مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں امن کے قیام کی فوری کوششیں کی جائیں یعنی سیکیورٹی فول پروف بنائی جائے اور سیاسی حوالوں سے بھی اس صوبے کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ دور کی جائیں۔ ہمارے خیال میں بلوچستان کے درد کا درماں ڈائیلاگ میں پوشیدہ ہے یہ ڈائیلاگ وہاں کے عوام کے ساتھ ہونے چاہئیں' وہاں کے سیاسی' معاشی اور سماجی اسٹیک ہولڈرز کو بات چیت کے اس عمل میں شامل کیا جانا چاہیے' ایک دوسرے کی بات سنی جائے گی تو ہی مفاہمت کا کوئی در وا ہو سکے گا۔