بھارتی ہٹ دھرمی نے تیسری عالمی جنگ کے خطرات پیدا کردیئے
بھارت نے خطے کے امن کو تہ و بالا کرنے کیلئے تمام وسائل جھونک رکھے ہیں
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کورونا زدہ بجٹ پیش کردیا گیا ہے۔ ابھی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جا رہا تھا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے منی بجٹ کی بازگشت سنائی دیناشروع ہوگئی تھی، تین ماہ بعد منی بجٹ کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ کا دعویٰ ہے کہ مشکل ترین حالات میں متوازن بجٹ دینے کی کوشش کی ہے۔
ان کاکہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشکل ترین مذاکرات کرکے تعمیراتی شعبے کے لیے اچھا پیکج دیا۔ مرکزی حکومت کی آمدن 2 ہزار ارب روپے ہے، اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف جرات مندانہ رکھا ہے، اگلے سال 2700 ارب قرض کی ادائیگی پر خر چ ہوں گے اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری چھ ارب ڈالر کے پروگرام کی بحالی کو فوکس کیا گیا ہے۔ اگر بجٹ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بجٹ خود چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ یہ پوری مشق اور اعداد وشمار کا یہ گورکھ دھندا صرف اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آئی ایم ایف کے منجمد پروگرام کو کسی طرح دھکا سٹارٹ کیا جا سکے کیونکہ اس کے بغیرحکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام کی ناکامی بڑی تباہی کو جنم دے گی۔ اس وقت یہی دوبڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ کورونا سے پیدا ہونیوالی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف نے تین ماہ تک کیلئے ریلیف دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اب بجٹ کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے اقتصادی جائزہ پر پیشرفت کا امکان ہے جس میں معلوم ہوسکے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور اگلے مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے اختتام پر اکتوبر 2020 کے بعد صورتحال واضع ہوگی کہ کیا کوئی منی بجٹ آئے گا یا آئی ایم ایف مزید ریلیف دینے پر آمادہ ہوجائے گا۔
ابھی آئی ایم ایف کو اعتماد میں لے کر کورونا زدہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے اس بجٹ میں اگرچہ صنعتی و مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی و ٹیکسوں میں رعایات دی گئی ہیں مگر معیشت کا ریسپانس حکومتی دعوں کی نفی کرتا دکھائی دے رہا ہے بجٹ پیش ہونے سے قبل آخری روز سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار رہی جبکہ بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی پہلے روز ملکی سٹاک مارکیٹ سات سو پوائنٹ سے زیادہ نیچے گری ہے، البتہ منگل کو سٹاک مارکیٹ میں کچھ مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری طرف بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے کچھ ریلیف نہیں دیا گیا اور سرکاری ملازمین احتجاج کی کال دے چکے ہیں۔ ادھر ٹیکسٹائل سیکٹر بھی نالاں دکھائی دے رہا ہے اور آٹوموبائل سیکٹر تو اس پر صرف شدید ردعمل دے چکا ہے بلکہ بازار حصص میں بھی آٹو کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار تنزلی کا رجحان ہے سیمنٹ سیکٹر کیلئے ریلیف دیا گیا ہے۔
مارکیٹ میں سیمنٹ سیکٹر کی طرف سے بھی وہ ہلچل دیکھنے میں نہیں ملی جسکی توقع کی جارہی تھی اب یہ حکومتی پالسیوں پراعتماد کا فقدان ہے یا کورونا کی تباہ کاریوں کے اثرات۔ حالات جس تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکل رہے ہیں وہ خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں اور اگر توجہ نہ دی گئی تو بڑے خطرے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ ابھی قاضی فائز کیس بھی اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ ریفرنس میں کئی خامیاں ہیں، بدنیتی ثابت ہونے پر کیس خارج ہوسکتا ہے۔
سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی ذلمے خلیل زاد کے حالیہ دورہ پاکستان و افغانستان کے بعد آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی افغانستان کا دورہ کیا ہے اور افغان صدر سے اہم ملاقات کی ہے اور منگل کو افغان سفیر نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے اہم ملاقات کی ہے اس میں بھی دوطرفہ امور زیر بحث آئے ہیں یقینی طور پر یہ سفارتی سرگرمیاں عالمی سطع پر ہونے والی سرگرمیوں کے ہی تناظر میں ہے اور پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے مگر بدقسمتی سے پڑوسی ملک بھارت نے خطے کے امن کو تہ و بالا کرنے کیلئے تمام وسائل جھونک رکھے ہیں جس کا نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔ آج دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جبکہ پاکستان کے اردگردسرحدی علاقوں میں بھی حالات کشیدہ ہیں۔
بھارت ہٹ دھرمی اس قیامت خیز وباء کی تباہ کاریوں میں بھی اسی شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان بھی جھڑپیں جاری ہیں جس میں بھارت کو شدید ناکامی و خفت اُٹھانا پڑ رہی ہے مگر باز پھر بھی نہیں آرہا۔ ایک طرف امن کیلئے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف مکاری کی روایت بھی برقرا رکھے ہوئے ہے۔ افغانستان میں بھی حالات کروٹ لے رہے ہیں۔ نیپال اور انڈیا کے معاملات بھی کوئی اچھے نہیں ہیں۔
ادھر چین اور امریکا بھی سینگ پھنسائے ہوئے ہیں ان حالات میں ترکی،روز اور سعودی عرب بھی پوری طرح متحرک ہیں اور عالمی ادارے کورونا کو لے کر مستقبل قریب اور بعید کیلئے کوئی اچھی خبریں و پیشگوئیاں نہیں کر رہے۔ عالمی سطح پر جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اس سے خوراک کی قلت کا مسئلہ بھی اب سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے اگر حالات زیادہ عرصہ اسی طرح چلے تو خواراک کا مسئلہ بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئے گا جسکا کہ خدشہ عالمی اداروں کی جانب سے ابھی سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں ایک جانب کرونا کی قیامت خیزیاں جاری ہیں تو دوسری طرف ٹڈی دل کی تباہ کاریاں ہیں۔ کرونا کا پھیلاؤ پچھلے ساڑھے تین ماہ میں تباہ کن سطح تک پہنچ چکا ہے لیکن ابھی تک ہم نقط عروج سے دور ہیں۔ پاکستان کے کرونا کے نقطہ عروج تک پہنچنے میں تاخیر کی وجہ سندھ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن سمیت کئی اقدامات ہیں جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ اسلام آباد انتظامیہ نے بھی یہی اقدامات کئے۔
ایک حد تک میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی لوگوں کی آگاہی میں اضافہ کیا ان اقدامات کی وجہ سے کرونا کے پھیلاو میں تیز افزائش نہیں ہوئی۔ لاہور میں بڑی تعداد میں علاقے سیل کرنے کی خبریں سامنے ا ٓنا شروع ہوگئیں اور اسلام آباد میں بھی علاقے سیل کئے جارہے ہیں یہی صورتحال دوسرے علاقوں کی ہے۔ اب ہم تیزی سے کرونا کے نقطہ عروج کی طرف بڑھ رہے ہیں کرونا کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا اور پہلے 36 ہزار کے لگ بھگ کیس آنے میں 78 دن لگے تھے۔ پچھلے ہفتے یہی تعداد ایک ہفتے میں ممکن ہوئی ہے۔
پاکستان کے پہلے 100 ہلاک افراد کی تعداد تک پہنچنے میں تقریباً 50 دن لگے تھے۔ اب اس سے زیادہ افراد صرف 24 گھنٹوں میں موت کی وادی کی طرف جا رہے ہیں۔ ان خوفناک اعداد و شمار کے باوجود عالمی ادارہ صحت کی تمام سفارشات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر لاک ڈاؤن کھولا گیا اور ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور ٹریسنگ کے دعووں کے باوجود اس ضمن میں کوئی قابل ذکر کاوش سامنے نہیں آئی۔ اب ساڑھے تین ماہ کی طویل مدت کے باوجود اور تمام تر وعدوں کے باجود کہ پاکستان جلد ہی پچاس ہزار یومیہ ٹیسٹنگ کرسکے گا، ابھی تک ٹیسٹنگ مر مر کے بھی اس کے آدھے کے قریب پہنچی ہے۔
پاکستان کی یومیہ ٹیسٹنگ یہ سطریں لکھتے وقت اپنی آبادی کے ایک فیصد کے آدھے کے قریب بھی نہیں پہنچی۔ پاکستان نے ابھی تک اپنی آبادی کے صرف 0.38 فیصد کا کرونا ٹیسٹ کیا ہے۔ کرونا کس تیزی کے ساتھ پاکستان میں پھیل رہا ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اب تک جومحدود تعداد میں ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں ان میں مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عید تک مثبت نتائج آنے والوں کی تعداد 16 فیصد تھی جو عید کے بعد بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی اور اب یہ تعداد 24 فیصد سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ صرف منگل کو ملک بھر سے اب تک کورونا کے مزید 2044 کیسز اور 55 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2839 ہوگئی ہے۔