عوام HE ہوتے ہیں یا SHE
ایک مچھلی ایسی بھی ہوتی ہے جو چھ مہینے مذکر رہتی ہے اور چھ مہینے مونث بن جاتی ہے عوام کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے
ویسے تو ہمارا کئی زبانوں سے واسطہ رہتا ہے لیکن ان سب میں ہماری پسندیدہ زبان فارسی ہے، صرف اس وجہ سے نہیں کہ اس میں دنیا کا بہترین ادب اور خاص طور پر شعری ادب موجود ہے بلکہ اس لیے کہ اس میں ''تذکیر و تانیث'' کا کوئی جھگڑا نہیں ہے' ایسا لگتا ہے جیسے فارسی والے ابتداء ہی سے حقوق نسواں کے زبردست حامی رہے ہوں کہ نر و مادہ دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے رہے ہیں، فارسی کا ہر لفظ:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
ہماری اس پسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ جن باقی دو زبانوں سے ہمارا پالا مستقل طور پر پڑا ہوا ہے یعنی اردو اور پشتو، ان دونوں میں تذکیر و تانیث کا سلسلہ قطعی ایک دوسرے کے الٹ ہے جو چیز پشتو میں مذکر ہے وہ اردو میں مونث ہے اور جو چیز پشتو میں مونث ہے اسے اردو والے مذکر بولتے ہیں ویسے اردو میں تذکیر و تانیث کا چکر پشتو سے بھی زیادہ ہے کیوں کہ قطعی مردانہ چیزوں کو بھی زنانہ بنا دیا جاتا ہے ۔اب دیکھیے مرد تو صاف صاف مذکر ہے لیکن مردانگی کو مونث کر دیا ہے خود تذکیر و تانیث کے الفاظ بھی مونث ہیں غالباً اردو والے کچھ زیادہ ہی
موت بھی اس لیے گوارا ہے
موت آتا نہیں ہے آتی ہے
اور وہ انگور کی بیٹی ...حالانکہ وہ انگور کا رس ہوتا ہے لیکن نہ جانے کیسے جنس بدل کر بیٹی بن جاتا ہے حالانکہ خود انگور اور اس کا باقی سارا خاندان ہی مذکر ہے، ادھر پشتو والے تو آپ جانتے ہیں کہ مذکر پر جان دیتے ہیں، لیکن اس وقت ہم نہ تو کوئی لسانی بحث کر رہے ہیں اور نہ ہی زبانوں کی اچھائی برائی پر کچھ کہنا مقصود ہے ہر زبان کی اپنی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں اور پھر اردو تو ایک ایسی زبان ہے جو ہر لحاظ سے منفرد ہے یہ واحد زبان ہے جو دنیا کے دو سب سے بڑے لسانی گروہوں آریائی اور سامی کا سنگم ہے ۔یہ واحد زبان ہے جو کسی کی بھی نہیں ہے لیکن ہر کسی کی ہے ۔یہ واحد زبان ہے جس کا اپنا کوئی بھی لفظ نہیں ہے لیکن دنیا کی ہر زبان کا ہر لفظ اس کا اپنا ہے اس کا اپنا کوئی ملک نہیں لیکن ہر ملک میں موجود ہے
ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست
لیکن ہماری بحث یہ بھی نہیں ہے بلکہ ایک لفظ نے ہمیں پریشان کیا ہوا ہے اور وہ لفظ ہے عوام ۔۔۔ یہ تو ہم بتا چکے ہیں کہ ہم اردو میں بھی لکھتے ہیں لیکن بنیادی طور پر مادری زبان پشتو ہے اور تذکیر و تانیث میں یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لیے اکثر اردو میں لکھتے ہوئے تذکیر و تانیث کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے لیکن اس لفظ عوام کا تو قصہ ہی دوسرا ہے آج تک ہم یہ بھی نہیں سمجھ پائے کہ اردو میں بھی یہ لفظ مونث ہے یا مذکر ۔۔۔ کوئی ہماری عوام کہتا ہے تو ہمارے عوام ۔۔۔ ہاں یہ جمع اور واحد کا مسئلہ بھی ہے گویا
جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
مشکل کہ تم سے راہ سخن وا کرے کوئی
یہ کنفیوژن پہلے نہیں تھا پتہ نہیں یہ کنفیوژن بھی مونث ہے یا مذکر؟ لیکن اس کے لیے تو قاعدہ کلیہ موجود ہے کہ اگر کنفیوژن کسی مذکر نے پیدا کی ہے تو اسے مذکر سمجھیں گے اور اگر کسی مونث سے اسے جنا ہے تو مونث سہی، جیسا کہ ایک ''استاد گرامر'' نے اپنے شاگرد کو سمجھایا تھا کہ فاختہ مذکر ہے یا مونث ؟ تو استاد نے نہایت استادی سے بتایا کہ اس کے آگے دانہ ڈال دو اگر وہ چگنے ''لگی'' تو مونث ہے اور اگر وہ چگنے ''لگا'' تو مذکر ہے، لیکن عوام کے ساتھ ہم یہ بھی نہیں کر سکتے کیوں کہ ان میں اکثر ایسے ہیں جو چگتے ہیں اور ایسی بھی ہیں جو چگتی ہیں اور یہی سارا کنفیوژن ہے جو نہ جانے مونث ہے یا مذکر، کیونکہ کنفیوژن کا تعلق بھی عوام سے ہے جو نہ ہیئوں میں ہیں نہ شیئوں میں بلکہ (HE) بھی ہیں اور (SHE) بھی ۔۔۔ یعنی جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی ۔۔۔ ایسی صورت میں فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
کسی جگہ پڑھا ہے کہ ایک مچھلی ایسی بھی ہوتی ہے جو چھ مہینے مذکر رہتی ہے اور چھ مہینے مونث بن جاتی ہے عوام کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے لیکن ان کی ''جنس بدلی'' کا عرصہ بھی کچھ بے ترتیب سا ہے یہ بے چارے یا بے چاری یعنی عوام صرف ایک دو مہینے کے لیے مذکر بنتے ہیں بلکہ صحیح معنوں میں سپرمین، ان داتا، آقا، مالک اور نہ جانے کیا کیا بنا دیے جاتے ہیں بلکہ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ اس دوران میں یہ ''آدمی'' بھی بنا دیے جاتے ہیں لیکن گنتی ہوتے ہی نہ صرف مونث بلکہ ہندسے بھی بن جاتے ہیں یا بن جاتی ہے اس سلسلے میں دو لطیفے بڑے مشہور ہیں۔ ایک تو وہ امریکی لطیفہ ہے جب ایک پاکستانی جے اے رحیم سے لے کر معراج محمد خان تک اور مولانا کوثر نیازی سے لے کر خورشید حسن میر تک سب ہی ''ہماری عوام'' تمہاری عوام کہنے لگے ۔ہمیں اچھی طرح یاد ہے شیر پاؤ یعنی بڑے شیر پائو حیات محمد خان ایک مرتبہ تقریر کر رہے تھے۔ پشتو کے اثر سے بے خیالی میں منہ سے ہمارے عوام نکلا تو فوراً ریورس ہو کر اپنی تصحیح کر لی اور ہماری عوام کو دو مرتبہ دہرایا، دراصل بھٹو صاحب تھے ہی انقلابی آدمی وہ جو کچھ اپنے ساتھ لائے اور جو کچھ ایجاد یا دریافت کیا وہ سب نیا تھا جن میں سے ایک پروڈکٹ پر ہماری عوام بھی تھا غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریزی میں سوچتے تھے اردو میں بولتے تھے اور سندھی میں کرتے تھے اور یہ ان کا حق بھی تھا کہ وہ پاکستان میں کچھ نہ کچھ نیا کر کے دکھائیں۔
نئی ایجادات نئی اختراعات اور نئی اصطلاحات ۔۔۔ اور اتفاقاً یہ تینوں بھی مونث ہیں کیوں کہ نئے پاکستان کے بانی وہ تھے۔ قائداعظم تو پرانے پاکستان کے بانی تھے جس کے ساتھ بنگال کا فالتو گوشت لٹکا رہتا تھا اور خواہ مخواہ پریشان کیے رہتا تھا لیکن بھٹو صاحب نے مشہور سرجن یحیٰی خان کے ساتھ ایک آپریشن کر کے وہ فالتو گوشت کاٹ کر دور پھینک دیا اس لیے نئے صحت مند، نئے نویلے اور سرجری شدہ پاکستان کے بانی وہ ہوئے وہ اور ان کے سارے عقیدت مند بھی یہی سمجھتے تھے اس لیے قائداعظم کے وزن پر ان کو قائد عوام کا ٹائٹل دیا گیا لیکن وہ مذکر ہوتے تھے اور وہ صرف نصف آبادی کی نمایندگی کرتے تھے، بھٹو صاحب سے ان کے عقیدت مندوں کی عقیدت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آج تک کوئی ایک بھی شہادت پیش نہیں کی جا سکتی کہ کسی پیپلیے یعنی جیالے نے عوام کو مذکر باندھا ہو اور چونکہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اور شی کو دیکھ کر ہی بھی ''شی'' بننے کی کوشش کرتا ہے اس لیے عوام کی تذکیر مونث میں بدل گئی، جیسا کہ اس قصے میں ہے جو ہم آپ کوکئی بار سنا چکے ہیں لیکن آپ کے خالص اور شدھ بھلکڑ پن پر ہمیں بھروسہ ہے کہ یاد نہیں ہو گا اس لیے پھر سنائے دیتے ہیں۔
ایک بادشاہ کے ہاں شہزادہ پیداہوا تو وہ ''ہی'' سے زیادہ ''شی'' کی طرف مائل تھا ۔وزیروں سے مشورے کے بعد یہ کیا گیا کہ شہزادی نما شہزادے یا شہزادہ نما شہزادی کو ایک قلعے میں پورے سو نوجوانوں کے ساتھ رکھا گیا تا کہ نوجوانوں کی صحبت اسے ہی سے شی کر دے لیکن جب ایک سال بعد بادشاہ نے قلعے کا دورہ کیا تو پورے ایک سو ایک ''ہی'' مکمل طور پر شی بن کر لچکتے مٹکتے اور تالیاں بجاتے ہوئے ملے، خیر تو ہم مکمل طور پر کنفیوژ ہیں کہ عوام شی ہوتے ہیں یا ہی، گرامر کی رو سے تو یہ ''ہی'' کے زمرے میں آتے ہیں لیکن عملی طور پر شی سمجھے جاتے ہیں حالانکہ ہی اور شی دونوں مل کر عوام بنتے ہیں اور ایسا کوئی صیغہ تو ہے نہیں جو ہی اور شی دونوں کے لیے بولا جائے اس لیے ہم بھی ان کو وہی سمجھیں گے جو ہمارے لیڈر سمجھتے ہیں یعنی SHE+HE مساوی یعنی کچھ بھی نہیں، یا موم کی ناک یا آٹے کا گُڈا۔