جسٹس مقبول باقر پر حملے میں ملوث مفرور ملزمان اشتہاری قرار

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جیل میں قید ملزمان کو بھی طلب کرلیا


Staff Reporter December 11, 2013
عدالت کے حکم پر ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 87کے تحت ملزمان کو تلاش کیا،تفتیشی افسر۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چیف جسٹس مقبول باقر کے کا نوائے پر حملے کرنے کے الزام میں مفرور ملزمان کے پولیس کی رپورٹ پر اشتہاری اور لائف وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور پابند سلاسل ملزمان کو24دسمبر کو طلب کرلیا۔

منگل کو مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے حکم پر ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 87کے تحت ملزمان کو تلاش کیا اور مقامی اخبارات میں اشتہار بھی شائع کیے تاہم ملزمان کا کوئی سراغ نہ ملا اور ضابطہ فوجداری کی ایکٹ88کے تحت ملزمان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد بھی انکے نام نہیں ہے متعلقہ اداروں نے بھی جائیداد سے متعلق کوئی رپورٹ نہیں دی، فاضل عدالت نے پولیس کی جانب سے 87/88کی رپورٹ مکمل ہونے پر مفرور ملزمان رضوان عرف آصف چھوٹو ، عطالرحمن، ساجد ، یاسر موسیٰ کے لائف وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی اور گرفتار ملزمان ابوبکرمعصوم باﷲ عرف ذوالفقار اور محمد معاویہ لغاری کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کیلیے جیل حکام کو ہدایت جاری کردی، علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پولیس مقابلہ اقدام قتل اورٹارگٹ کلنگ میں گرفتار لیاری گینگ وار کے سعود،سعید، اورنگزیب، امین اور سمیع کو 14روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا، ملزمان کو گزشتہ روز ماڑی پور کے علاقے سے اسلم چوہدری کی سربراہی میں سی آئی ڈی نے گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا تھا۔