ون ڈے سیریز فتح کے ارمانوں پر اُوس پڑنے کا خدشہ

پاکستان کی اصل قوت تینوں اسپنرز ہیں گیندگیلی ہونے سے بہتر پرفارم کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، مصباح الحق


Sports Reporter December 15, 2013
سری لنکن ٹیم اور یو اے ای کی کنڈیشنز دونوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کرنا ہوگی فوٹو؛ ایکسپریس نیوز/فائل

KARACHI: قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق فتح کے ارمانوں پر اوس پڑنے کا خدشہ محسوس کرنے لگے۔

انھوں نے کہاکہ موسم کا عنصرمیچز پر اثر انداز ہورہا ہے، ہماری اصل قوت تینوں اسپنرز ہیں جن کو گیند گیلی ہونے کے سبب بہتر پرفارم کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، ان کے مطابق سری لنکن ٹیم اور یو اے ای کی کنڈیشنز دونوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کرنا ہوگی، دوسرے ٹوئنٹی 20 میں مشکل ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے گرین شرٹس نے خوب جان لڑائی، اس سے بیٹنگ لائن کا حوصلہ بڑھ گیا، ایک روزہ مقابلوں میں بھی کسی گھبراہٹ کا شکار ہوئے بغیر بڑے اسکور کرنے کیلیے تیار رہنا ہوگا، کپتان کا کہنا ہے کہ سینئرز کے ساتھ نئے کھلاڑیوں کو گروم کرنے کی پالیسی کے اچھے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق سری لنکا کیخلاف5میچز کی سیریز میں شرکت کیلیے متحدہ عرب امارات پہنچ گئے،ہفتے کو لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ سے دبئی روانگی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ دوسرے ٹوئنٹی20میں آئی لینڈرز کی طرف سے بڑا اسکور کیے جانے کے باوجود گرین شرٹس نے خوب مقابلہ کیا، مسلسل 3 وکٹیں گرنے کی وجہ سے منزل چار قدم دور رہ گئی، خوشی کی بات ہے کہ کھلاڑیوں نے ہار نہ مانتے ہوئے بھرپور کوشش کی،خاص طور پر لوئر مڈل آرڈر نے مشکل حالات میں عمدہ پرفارم کیا، پلیئرز کو حاصل ہونے والا اعتماد مستقبل میں کام آئے گا۔انھوں نے کہا کہ اوس کا عنصر میچز کے نتائج پر اثر انداز ہورہا ہے،گرین شرٹس سری لنکا کا اسکور20رنز کم رکھنے میں کامیاب ہوجاتے تو میچ کے نتائج مختلف ہوسکتے تھے، یواے ای میں ہماری اصل قوت تینوں اسپنرز ہیں جو اوس کی وجہ سے بہترین پرفارمنس دکھانے میں مشکل محسوس کر سکتے ہیں، یہی پریشانی مہمان ٹیم کی بھی ہوگی، ون ڈے سیریز میں حریف کے ساتھ کنڈیشنز کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنائیں گے۔

مصباح الحق نے کہا کہ اوس کے ممکنہ نقصان کو غیر موثر کرنے کیلیے ٹیمیں بہتر سے بہتر ٹوٹل حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، سری لنکا نے دوسرے ٹوئنٹی20 میں ایسی ہی پالیسی بنائی، ون ڈے مقابلوں میں ہمیں بھی کسی گھبراہٹ کا شکار ہوئے بغیر بڑے اسکور کیلیے تیار رہنا ہوگا،انھوں نے کہا کہ مختصر طرز کے میچ میں مشکل ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے گرین شرٹس نے خوب جان لڑائی، اس فارمیٹ میں 200 کے قریب رنز اسکور کرنے پر بیٹنگ لائن کا حوصلہ بڑھ گیا،امید ہے کہ ایک روزہ مقابلوں میں بڑے ٹارگٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔مصباح الحق نے کہا کہ آئی لینڈرز ہمیشہ سخت جان حریف ثابت ہوئے ہیں،ان کے ساتھ میچ کبھی آسان نہیں ہوتے،گرین شرٹس کو فتح کیلیے بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی، پورا سال ہم بُری کارکردگی کی وجہ سے دباؤ کے شکار رہے، حال ہی میں ٹیم نے اچھا پرفارم کیا، کھیل میں بتدریج میں بہتری آرہی ہے جو پاکستان کرکٹ کیلیے خوش آئند ہوگی،کوشش کرینگے کہ پرفارمنس میں مزید نکھار لاتے ہوئے سری لنکا کیخلاف کامیابی حاصل کریں۔

انھوں نے کہا کہ جونئیر کھلاڑیوں کو آزمانے کی پالیسی کا مقصد اگلے برس ورلڈ ٹوئنٹی 20اور ورلڈ کپ 2015کیلیے بہترین کمبی نیشن تیار کرنا ہے۔ سلیکشن کمیٹی، محمد حفیظ اور میرا اس بات پر اتفاق ہے کہ ٹی20 کو نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں کو آزمانے کیلیے استعمال کیا جائے، متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ون ڈے اور ٹیسٹ میں مواقع دیے جائیں گے، پرفارم کرنے والے تجربہ کار کھلاڑیوں کو بھی اسکواڈ کا حصہ ہونا چاہیے، اس طرح نہ صرف متوازن ٹیم تشکیل دینے میں آسانی ہوگی بلکہ جونیئرز کو سینئرز سے سیکھنے کا موقع بھی ملے گا، تجربہ اور اچھی پرفارمنس ان کے اعتماد میں اضافہ کریگی جس کا پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہو گا، ابھی تک اس حکمت عملی کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے جس کا کریڈٹ محمد حفیظ کو جاتا ہے، کپتان نوجوانوں کو مواقع اور اعتماد دینے میں کبھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیںہوئے۔